اقبال علیہ الرحمہ کی وہ رباعی جو انہوں نے اپنے وصال سے چند منٹ پیشتر کہی۔ یہ وہ وقت تھا کہ سانس بھی رک رک کر چل رہا تھا۔ بعض اوقات آنکھوں کے اشارے اور ہاتھ کی جنبش سے کچھ سمجھاتے تھے۔
راجہ حسن اختر صاحب کا بیان ہے کہ علامہ مرحوم نے انتقال سے تقریبا دس منٹ قبل اپنا حسب ذیل قطعہ کہہ کر وقت آجانے کا اعلان کردیا تھا۔

سرودِ رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سرآمد روزگارے ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید

(پروفیسر محمد اکرم رضا، علامہ محمد اقبال گلزار نعت میں، کارواں نعت ص 163)

ترجمہ: سرزمین حجاز سے آنے والی خوبصورت اور زندگی بخش ہوا کہ جھونکے ختم ہونے کو ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ اس طرح کی ٹھنڈی اور فرحت افزا ہوا چلے گی یا نہیں۔ ایک مرد حق آگاہ کی زندگی کا پیالہ لبریز ہوچکا ہے اس قدر دور اندیش انسان مسلمانوں میں پھر کبھی پیدا ہوگا یا نہیں۔

0 comments so far,add yours