بجتے رہیں ہواؤں سے در ، تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پَر ، تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھ...
August 2016
گاڑی آنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ مسافروں کے گروہ کے گروہ پلیٹ فارم کے سنگین سینے کو روندتے ہوئے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔ پھل بیچنے وال...
Subscribe to:
Comments (Atom)