غزل ہے یہ بازارِ جنوں ، منڈی ہے دیوانوں کی یاں دکانیں ہیں کئی چاک گریبانوں کی کیونکر کہیئے کہ اثر گریہء مجنوں کو نہ تھا گرد نمناک ہے...
Articles by "میر تقی میر"
Showing posts with label میر تقی میر. Show all posts
غزل (میر محمدتقی میر) کون کہتا ہے مُنہ کو کھولو تم کاش کے پردے ہی میں بولو تم حکم آبِ رواں رکھے ہے حُسن بہتے دریا میں ہاتھ دھو ...
مشہور چمن میں تِری گُل پَیرہَنی ہے قرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدَنی ہے عریانیِ آشفتہ کہاں جائے پس از مرگ کُشتہ ہے ترا اور یہی بے کفَنی ہ...
دل کو تسکین نہیں اشکِ دما دم سے بھی اس زمانے میں گئی ہے برکت غم سے بھی ہم نشیں کیا کہوں اس رشکِ مہ...
دہر بھی میرؔ طُرفہ مقتل ہے جو ہے سو کوئی دم کو فیصل ہے کثرتِ غم سے دل لگا رُکنے حضرتِ دل میں آج دنگل...
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی خاطرِ بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں خاک مانند بگولے کے اڑا...
Subscribe to:
Posts (Atom)
