Articles by "ناصر کاظمی"
Showing posts with label ناصر کاظمی. Show all posts

ناصر رضا کاظمی انبالہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۷ میں تقسیم ہند کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ ابتدائی تعلیم انبالہ میں ہوئی۔ اس کے بعد...

ناصر کاظمی رت جگوں کا دلدادہ، لاہور کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومنے پھرنے کا عادی، کبوتروں کو دانہ ڈالنے، پالنے پوسنے، ان کی پٹ بیجنا سی ا...

ناصر کاظمی کا بیٹا باصر کاظمی میرا سکول میں ہم جماعت تھا۔ جب تک وہ لاہور میں رہا ھم بعد میں بھی ملتے رھے ۔ میں اس سے اکثر کہا کرتا تھا...

تنہائی تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا رویا تھا اک لہر ہی نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایہ دیر سے...

دوستوں کے درمیاں وجہہِ دوستی ہے تو مکمل غزل غم ہے یا خوشی ہے تو میری زندگی ہے تو آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو میری رات کا...

دوست بچھڑتے جاتے ہیں شوق لیئے جاتا ہے دور مکمل غزل دیکھ محبت کا دستور تو مجھ سےمیں تجھ سے دور تنہا تنہا پھرتے ہیں دل ویراں آنکھی...

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے (ناصر کاظمی اور صادقین) وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے وہ کشتیاں چ...

"ان دنوں لاہور کی راتیں جاگتی تھیں، جہاں اب نئی آبادیاں بس گئی ہیں وہاں ہرے بھرے جنگل تھے- واپڈا ہاؤس کی جگہ میٹرو ہوٹل تھا جہاں ...

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا پہلے تیرا نام لِکھا تھا میں وہ صبرِ صمیم ہوں جس نے بار امانت سر پہ لیا تھا میں وہ اسمِ عظیم ہُوں جس کو ...

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگا یاد نے کنکر پھینکا ہوگا آج تو میرا دل کہتا ہے تو اس وقت اکیلا ہوگا میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے اوروں کو خط ...

ھم نے آباد کیا ملکِ سخن کیسا سنسان سماں تھا پہلے ھم نے بخشی ھے خموشی کو زباں درد مجبورِ فغاں تھا پہلے ھم نے ایجاد کیا تیشۂ عشق شع...

کیا لگے آنکھ پھر دل میں سمایا کوئی رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی فکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد ن...

گئے دنوں کا سراغ لیکر کہاں سے آیا کدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم، نظر اسے ڈھونڈ...

دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں توکیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دشمناں ہوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں...

دن کا پُھول ابھی جاگا تھا دُھوپ کا ھاتھ بڑھا آتا تھا سُرخ چناروں کے جنگل میں پتھر کا اِک شہر بسا تھا پیلے پتھریلے ھاتھوں میں نیلی...

ناصر کاظمی انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اوراق نو‘ ہمایوں اور خیال کی مجلس ادارت میں شامل رہے اور پھر اپنی وفات تک ریڈیو پاکستان سے وابست...

ناصر کاظمی پاکــــــ ٹی ہاؤس میں ـــــــــــ ایک یادگار تصویر

کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ھوں نشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے اب تو منزل بھی ھے خو...

ناصر کاظمی کی غزل میں دکھ کی ہلکی سی سلگتی ہوئی آنچ نظر آتی ہے۔ دکھ میں چھلبلاہٹ ہوتی ہے غصہ ہوتا ہے لیکن ناصر کے ہاں یہ چیزیں نہیں بل...

ناصر کاظمی نے جو دکھ بیان کیے ہیں وہ سارے دکھ ہمارے جدید دور کے دکھ ہیں ناصر نے استعارے لفظیات کے پیمانے عشقیہ رکھے لیکن اس کے باطن میں ...