سُنتے ہیں پِھر چُھپ چُھپ اُنکے گھر میں آتے جاتے ہو اِنشاؔ صاحب! ناحق جی کو وحشت میں اُلجھاتے ہو دِل کی بات چُھپانی مُشکل، لیکن خُوب چُ...
انشا جی کی اس دل دوز غزل کے ساتھ ایک المیہ پس منظر ھے ۔ ان کا انتقال کینسر سے لندن میں ھوا ان کے ساتھ ان کے بھائی محمود ریاض مرحوم تھے دون...
ابن انشاء ایک دلکش کردار تھے؛ شاعر، سفارتکار، مصنف اور مارکسسٹ۔ تاہم ان کی وجہ شہرت ان کی نظمیں ہیں جو باقاعدگی سے ادبی جریدوں میں شائع...
انشا جی کی کیا بات بنے گی انشا جی کیا بات بنے گی ہم لوگوں سے دور ہوئے ہم کس دل کا روگ بنے ، کس سینے کا ناسور ہوئے بس...
جب عمر کی نقدی ختم ہوئی ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے ہے کوئی جو ساہو کار بنے ہے کوئی ...
اس بستی کے اک کوچے میں،اک انشاء نام کا دیوانہ اک نار پہ جان کو ہار گیا،مشہور ہے اس کا افسانہ اس نار میں ایسا روپ نہ تھا،جس روپ سے دن ...
کل ہم نے سپنا دیکھا ہے کل ہم نے سپنا دیکھا ہے جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے اُس شخص کو اپنا دیکھا ہے وہ شخص ...
کچھ صورتیں تھیں ، کچھ مورتیں تھیں کچھ اور بھی شاید دیکھا ہو جہاں نظریں ٹھہری ٹھٹکی ہوں جہا ں دل کا کانٹا اٹکا ہو پر ہم کوتو کچھ یاد ن...
ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہُوا جی مچلتا تھا ایک اک شے پر مگر جیب خالی تھی، کچھ مول لے نہ سکا۔ ...
غزلِ ابن انشا ہم ہیں آوارہ سُو بسُو لوگو جیسے جنگل میں رنگ و بُو لوگو ساعتِ چند کے مُسافر سے کوئی دم اور گفتگو لوگو تھے تمہاری طر...
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں، افسانے ہوں فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو فر...
