یہ وطن، تیری مری نسل کی جاگیر نہیں سینکڑوں نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے اسے کتنے ذہنوں کا لہو، کتنی نگاہوں کا عرق کتنے چہروں کی ...
جو لطفِ میکشی ہے نگاروں میں آئے گا یا با شعور بادہ گساروں میں آئے گا وہ جس کو خلوتوں میں بھی آنے سے عار ہے آنے پہ آئے گا تو ہزار...
گو مسلکِ تسلیم و رضا بھی ہے کوئی چیز پر غیرتِ اربابِ وفا بھی ہے کوئی چیز کھلتا ہے ہر اک غنچۂ نو جوشِ نمو سے یہ سچ ہے مگر لمسِ ہوا ...
میں پل دو پل کا شاعر ہوں، پل دو پل مری کہانی ہے پل دو پل مری ہستی ہے، پل دو پل مری جوانی ہے مجھ سے پہلے کتنے شاعر، آئے اور آ کر ...
(اپنے جگری دوست یش چوپڑہ کی شادی کے موقع پر) کارگر ہو گئی احباب کی تدبیر اب کے مانگ لی آپ ہی دیوانے نے زنجیر اب کے جس نے ہر دام ...
سزا کا حال سنائیں، جزا کی بات کریں خدا ملا ہو جنہیں، وہ خدا کی بات کریں انہیں پتہ بھی چلے اور وہ خفا بھی نہ ہوں اس احتیاط سے کیا م...
توڑ دیں گے ہر اک شے سے رشتہ، توڑ دینے کی نوبت تو آئے ہم قیامت کے خود منتظر ہیں، پر کسی دن قیامت تو آئے ہم بھی سقراط ہیں عہدِ نو کے...
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی ظالم کو جو نہ روکے، وہ شامل ہے ظلم میں قاتل کو جو نہ ٹوکے، وہ ق...
زندگی سے انس ہے حسن سے لگاؤ ہے دھڑکنوں میں آج بھی دل ابھی بجھا نہیں رنگ بھر رہا ہوں میں خاکۂ حیات میں آج بھی ہوں منہمک ف...
نغمہ جو ہے تو روح میں ہے، نَے میں کچھ نہیں گر تجھ میں کچھ نہیں، تو کسی شَے میں کچھ نہیں تیرے لہو کی آنچ سے گرمی ہے جسم کی مے کے ...
22 نومبر 1970ء کو گورنمنٹ کالج لدھیانہ کی گولڈن جوبلی منائی گئی، اس موقع پر کالج کے ایک سابق طالب علم کی حیثیت سے ساحر ساحب کو خاص طور پ...
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے اے روحِ عصر جاگ، کہاں سو رہی ہے تو آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب ...
گاندھی شتابدی اور غالب صدی کے اختتام پر لکھی گئی گاندھی ہو یا غالب ہو ختم ہوا دونوں کا جشن آؤ، انہیں اب کر دیں دفن ختم کرو...
اکیس برس گزرے آزادیِ کامل کو تب جا کے کہیں ہم کو غالب کا خیال آیا تربت ہے کہاں اس کی، مسکن تھا کہاں اس کا اب اپنے سخن پرور ذہنوں میں...
میں زندہ ہوں، یہ مشتہر کیجیے مرے قاتلوں کو خبر کیجیے زمیں سخت ہے، آسماں دور ہے بسر ہو سکے تو بسر کیجیے ستم کے بہت سے ہیں ردِّ ...
آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پر دیکھے تھے ہم نے جو، وہ حسیں خواب کیا ہوئے دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا خوشحالیِ عوام کے اسباب...
اہلِ دل اور بھی ہیں، اہلِ وفا اور بھی ہیں ایک ہم ہی نہیں، دنیا سے خفا اور بھی ہیں کیا ہوا گر مرے یاروں کی زبانیں چپ ہیں میرے شاہ...
کل کے پھولوں سے تھا جس کا رشتہ آج کے غنچہ چینوں میں کیوں ہو سال خوردہ ایاغوں کی تلچھٹ نوجواں آبگینوں میں کیوں ہو ساعتِ فصلِ گل ہ...
(ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے پسِ منظر میں لکھی گئی اور معاہدۂ تاشقند کی سالگرہ پر نشر کی گئی) خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم ک...
لب پہ پابندی تو ہے، احساس پہ پہرا تو ہے پھر بھی اہلِ دل کو احوالِ بشر کہنا تو ہے خونِ اعدا سے نہ ہو، خونِ شہیداں ہی سے ہو کچھ نہ ...