Articles by "پروین شاکر"
Showing posts with label پروین شاکر. Show all posts

بجتے رہیں ہواؤں سے در ، تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پَر ، تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھ...

” ہمارے یہاں میرا بائی کی روایت تو تھی ہی جہاں عورت شعر کہتی ہے اور اسے عورت ہونے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور وہ اپنے محبوب کی شخصیت، ا...

ابر بہار نے پھول کا چہرہ اپنے بنفشی ہاتھ میں لیکر ایسے چوما پھول کے سارے دکھ خوشبو بن کر بہہ نکلے ہیں زود پشیماں گہری بھوری...

صُبح کے وقت، اذاں سے پہلے اب سے بائیس برس قبل اُدھر عُمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں کرب میں ڈوُبی ھُوئی چیخ کو سُن کر مِری ماں ھنس ...

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو! تم کہتے تھے مری آنکھیں ، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں اس حُسن اور سچائی کے سوا، ...

ننھے سے اک ریستوران کے اندر میں اور میری نیشنلسٹ کولیگز کیٹس کی نظموں جیسے دل آویز دھند لکے میں بیٹھی سُوپ کے پیالے سے اُٹھتی ، خو...

وہ ایک لڑکی کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں میں اُس کے چہرے کو جانتی ہوں کہ اُس کا چہرہ ...

کتنی دیر تک املتاس کے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر ہم نے باتیں کیں کچھ یاد نہیں بس اتنا اندازہ ہے چاند ہماری پشت سے ہو کر آنکھوں تک آ ...

’’جان ! مجھے افسوس ہے تم سے ملنے،شاید اس ہفتے بھی نہ آسکوں گا بڑی اہم مجبوری ہے!‘‘ جان! تمھاری مجبوری کو اب تو میں بھی سمجھ...

وہ لڑکی جس کے چہرے پر سدااُداسی رہتی تھی جس کے ہونٹ کبھی اخلاقاً بھی ہنستے تو یوں لگتا تھا اِک لمحہ بھی اور ...

تُمھارا رویہ : پروین شاکر ___________________ تُمھارا رویہ مرے ساتھ ایسا رہا ہے کہ جو ایک کہنہ سیاسی مُدبر کا کمسن صحافی کے ہ...

کتبہ یہاں پہ وہ لڑکی سو رہی ہے کہ جسکی آنکھوں نے نیند سے خواب مول لے کر وصال کی عمر رتجگے میں گزار دی تھی عجیب تھا انتظار اسکا کہ ...

احمد ندیم قاسمی کی نگرانی میں پروین شاکر کے پہلے شعری مجموعہ ’’خوشبو‘‘ کی اشاعت کے بعد قاسمی صاحب کے مخالف ’’گروپ‘‘ نے جب ان دونوں کے تع...

اسلام آباد کے قبرستان میں پروین کو رخصت کرنے والے بہت کم لوگ تھے، اُس کی عزیز داری کراچی میں تھی اور وہاں سے یہاں آج ہی کے دن پہنچنا م...

سو اب یہ شرط حیات ٹھہری کہ شہر کے سب نجیب افراد اپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کہ جینا سیکھیں وہ سب عقیدے جو ان گھرانوں میں ان کی...

مر بھی جاؤں تو کہاں ،لوگ بھلا ہی دیں گے  لفظ میرے ـــــ مرے ہونے کی گواہی دیں گے آج خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کا جنم دن ہے 24 نومبر 1954 ء ...