احمد
ندیم قاسمی کی نگرانی میں پروین شاکر کے پہلے شعری مجموعہ ’’خوشبو‘‘ کی
اشاعت کے بعد قاسمی صاحب کے مخالف ’’گروپ‘‘ نے جب ان دونوں کے تعلقات میں
دراڑ ڈالنے کے لیے یہ کہنا شروع کردیا
کہ ’’منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے‘‘
تو اپنے قریبی دوستوں کے مشورے کے بعد پروین نے احتیاطاً اپنے ’’عمو‘‘قاسمی صاحب کے حصار سے باہر آگئیں۔۔ ۔اور اُن سے ملنا جلنا کم کردیا۔۔۔جس کا چشم دید گواہ میں بھی ہوں۔۔۔
اور اس دکھ کا اظہار قاسمی صاحب نے اپنے ایک مضمون ’’میری پروین بیٹی‘‘ میں اِن الفاظ میں کیا ۔۔۔’’مجھے دکھ ہے کہ میں پروین کے آخری دنوں میں اُس کی اُداسی کا سبب بنا۔
قاسمی صاحب نے ایک مختصر سا خط لکھا کہ کانفرنس کے پروگرام کے بارے میں تو مجھے کوئی بھی مطلع کر سکتا تھا مگر بیٹی، کانفرنس میں تمہاری شمولیت سے مجھے منصور حلاج یاد آرہا ہے، جو لوگوں کے پتھر کھا رہا تھا مگر چپ تھا۔
البتہ جب اس کے ایک اپنے نے اس پر ایک پھول، پتھر کی طرح پھینکا تو وہ بلک اُٹھا‘‘۔
(جریدہ’’ فکر ِ نَو‘‘ سے اقتباس)
کہ ’’منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے‘‘
تو اپنے قریبی دوستوں کے مشورے کے بعد پروین نے احتیاطاً اپنے ’’عمو‘‘قاسمی صاحب کے حصار سے باہر آگئیں۔۔ ۔اور اُن سے ملنا جلنا کم کردیا۔۔۔جس کا چشم دید گواہ میں بھی ہوں۔۔۔
اور اس دکھ کا اظہار قاسمی صاحب نے اپنے ایک مضمون ’’میری پروین بیٹی‘‘ میں اِن الفاظ میں کیا ۔۔۔’’مجھے دکھ ہے کہ میں پروین کے آخری دنوں میں اُس کی اُداسی کا سبب بنا۔
قاسمی صاحب نے ایک مختصر سا خط لکھا کہ کانفرنس کے پروگرام کے بارے میں تو مجھے کوئی بھی مطلع کر سکتا تھا مگر بیٹی، کانفرنس میں تمہاری شمولیت سے مجھے منصور حلاج یاد آرہا ہے، جو لوگوں کے پتھر کھا رہا تھا مگر چپ تھا۔
البتہ جب اس کے ایک اپنے نے اس پر ایک پھول، پتھر کی طرح پھینکا تو وہ بلک اُٹھا‘‘۔
(جریدہ’’ فکر ِ نَو‘‘ سے اقتباس)

0 comments so far,add yours