کھلا مہتاب بھی ٹوٹے ہوئے در کے حوالے سے سمجھتا ہوں میں اشیاء کو فقط گھر کے حوالے سے مرے مایوس ہونے سے ذرا پہلے ہی لوٹ آنا کہ میں بھی س...
یہی نہیں کہ زخم ِ جاں کو چارہ جُو ملا نہیں یہ حال تھا کہ دل کو اسمِ آرزو ملا نہیں ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے وہ رہگزر کوئی...
اچانک دِل رُبا موسم کا دِل آزار ہو جانا دُعا آساں نہیں رہنا سُخن دُشوار ہو جانا تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تُم کو ہی نہیں دیکھیں محبت کے...
کوئی سنگ رہ بھی چمک اُٹھا تو ستارہ سحری کہا مری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہا مرے روز و شب بھی عجیب تھے نہ شمار تھا نہ حس...
تم تو وفا شناس و محبت نواز ہو ہاں میں دغا شعار سہی،بے وفا سہی تم کو تو ناز ہے دلِ الفت نصیب پر میں ماجرائے درد سے نا آشنا سہی نا آشنائ...
ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں ٹوٹی جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہ...
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی تیرا پیغا...
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے چھلکے چھلکے ساغر چھلکے دل کے تقاضے، اُن کے اشارے بوجھل بوجھل، ہلکے ہلکے دیکھو دیکھو دامن اُلجھا ٹھہرو ٹھہر...
غزل گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید راہ میں سنگِ وفا تھا شاید اِک ہتھیلی پہ دیا ہے اب تک ایک سورج نہ بجھا تھا شاید اس قدر تیز ہوا کے...
غزل یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں جلنا تو خیر چراغوں کا مقدر ہے ازل سے یہ دل کے کن...
چھپ نہ سکے گی دل کی دھڑکن کاش نہ آتا اب کے ساون دل گھبرایا ، آنکھ بھر آئی امڈے بادل، برسا ساون دیکھیں نظریں ...
جیسے دریا کنارے کوئی تشنہ لب آج میرے خدا میں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوں میرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سب میرے آنکھوں میں اب بھی سجے ر...
اک دن تم نے مجھ سے کہا تھا دھوپ کڑی ہے اپنا سایہ ساتھ ہی رکھنا وقت کے ترکش میں جو تیر تھے کھل کر برسے ہیں زرد ہوا کے پتھریلے جھونکوں ...
غزل حال کُھلتا نہیں جبینوں سے رنج اُٹھائے ہیں کن قرینوں سے رات آہستہ گام اُتری ہے درد کے ماہتاب زینوں سے ...
ہم کریں بات دلیلوں سے ،تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہے لاشوں کی طرح اب دھ...
لبِ خاموش سے اظہارِ تمنا چاہیں بات کرنے کو بھی تصویر کا لہجہ چاہیں تو چلے ساتھ تو آہٹ بھی نہ آئے اپنی درمیاں ہم بھی نہ ہوں یوں تجھے تن...
اب کے برسات کی رُت اور بھی بھڑکیلی ہے، جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے، سوچتا ہوں کہ اب انجامِ سفر کیا ہوگا؟ لوگ بھی کانچ کےہیں راہ بھی...
مت غصے کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا ٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھاتی جا تجھ چال کی قیمت سوں دل نئیں ہے مرا واقف اے مان بھ...
تجھ قد اُپر جب سوں پڑی جگ میں نگاہِ عاشقاں تب سوں گئی طوبیٰ تلک جیوں تیر آہِ عاشقاں جب سوں ترا مکھ دیکھ کر معشوق سب عاشق ہوئے...
کماں ابرو پہ جیو قرباں ہوا ہے دل اس کے تیر کا پیکاں ہوا ہے بھواں تیغ و پلک، خنجر، نگہ، تیر یو کس کے قتل کا ساماں ہوا ہے ...
