اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے ميں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تيرے دامن پر گرا کر بُوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں ...
Articles by "قتیل شفائی"
Showing posts with label قتیل شفائی. Show all posts
مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے آخر کیا مشکل میری پہچان میں ہے اپنےہجر کے پسِ منظر میں جھانک مجھے میری س...
کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقعِ اظہار، آؤ سچ بولیں...
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہی...
Subscribe to:
Posts (Atom)
