یہ دِل یہ پاگل دِل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی اِس دشت میں اِک شہر تھا وہ کیا ہُوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں ...
ہر ایک لمحہ پہن کے صدیوں کی شال گزرا لہو کا موسم بھی آپ اپنی مثال گزرا حکایت - ضبط- ہجر بنتے کہ اشک چنتے گزر گیا ، جس طرح بھی عہد - وصا...
زمیں پر چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا کٹے جو پر تو پرندا آڑان سے بھی گیا کسی کے ہاتھ سے نکلا ہوا وہ تیر ہوں میں ہدف کو چھو نہ سکا او...
محسن نقوی بے سبب اداسی تھی اب کے اُس کے چہرے پر دُکھ تھا ۔۔۔۔ بے حواسی تھی اب کے یوں ملا مجھ سے یوں غزل سنی ۔۔۔۔۔ جیسے میں بھی...
محسن نقوی وہ آنکھوں آنکھوں میں بولتی ہے تو اپنے لہجے میں کچی کلیوں کی نکہتیں ادھ کھلے گلابوں کا رس خنک رت میں شہد کی موج گھولتی ...
اس کی زلفوں میں اندھیروں کو بکھرنے دینا اس کے چہرے کو مگر چاند کا ٹکڑا لکھنا اس کے ابرو کو ہلال شب وعدہ کہنا اس کے رخسار کی سرخی کو...
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رت جگوں کے بھنور یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق یہ آئینے سی جب...
اتنی مدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم پھرتے ہو اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟ ہر آہٹ سے ڈر جا تے ہو تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھ...
غزل قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ...
تمام شب یُونہی دیکھیں گی سُوئے در آنکھیں تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں طلوعِ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں! یہ دشتِ شب م...
کسے معلوم ؟ کون اس راز کی صدیوں پرانی کیفیت سے آشنا ہے ؟ یہ مرے چاروں طرف کیوں اک سکوت بے صدا ہے ؟ میں کہوں کس سے ؟ میری اجڑی ہوئ...
