February 2016

۱۹۴۸ء میں جب اے حمید پہلی مرتبہ ٹی ہاؤس میں نمودار ہوا تھا تو بالکل نہیں لگا تھا کہ وہ اکھاڑے سے بھاگ کر اور اپنے پہلوان باپ کی مار کھا ک...

ہمیں نام، مردوں کے چہرے، راستے، کاروں کے میک، شعر کے دونوں مصرے، یکم جنوری کا سالانہ عہد، بیگم کا سالگرہ، اور سینڈل کا سائز، نماز عید کی ...

باغ بہشت کے ایک گوشے میں گھنے درختوں کے نیچے، پھولوں کے تختوں کے درمیان، جوئبار کے کنارے ایک میز لگی ہے جس کے گرد کرسیوں پر ناصر کاظمی،...

یوں تو آپس کی روٹھ راٹھ ، چھوٹی موٹی ناراضگیاں ہمارے درمیان درجنوں بار ویسے ہی ہوئیں جیسے ہر میاں بیوی کے درمیان ہونا چاہیے۔ لیکن ہماری اص...

سنو ! جب میں مر جاؤں تو مجھے کنٹربری کے قبرستان میں دفنا دینا“ اُس کے منہ سے موت کا یہ پیغام سُن کر مجھے بڑا شدید دھچکا لگا لیکن میں نے...