۱۹۴۸ء میں جب اے حمید پہلی مرتبہ ٹی ہاؤس میں نمودار ہوا تھا تو بالکل نہیں لگا تھا کہ وہ اکھاڑے سے بھاگ کر اور اپنے پہلوان باپ کی مار کھا کر یہاں آیا ہے۔ اس کی چال ڈھال چغلی کھا رہی تھی کہ یہ کوئی رومانٹک روح ہے جو بھٹک کر یہاں آ نکلی ہے۔ انہی دنوں اس کا ایک افسانہ شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا ’منزل منزل‘۔ یہ اردو افسانے کی دنیا میں اس کا پہلا قدم تھا۔ اس افسانے سے بھی یہی غمازی ہوتی تھی کہ یہ نوخیز رومانی مزاج لے کر افسانے میں نمودار ہوا ہے۔
اس اکھاڑے کا نقشہ کھینچتے ہوئے اے حمید نے ان امرودوں کے پیڑوں کو بہت یاد رکھا جو اس اکھاڑے کے ارد گرد کھڑے تھے اور میٹھے امرودوں سے لدے ہوئے تھے۔ ہم نے پوچھا کہ پھروہاں سے بھاگ کیوں آئے۔ کہنے لگا کہ یار میرا باپ مجھے مارتا بہت تھا اور بہت ڈنڈ بیٹھک کراتا تھا۔ بس میں بھاگ کھڑا ہوا۔
بھاگ کر وہ کہاں کہاں گیا کلکتہ، بمبئی، رنگون، کلکتہ، بنگال کا جادو، کانسی کی گڑیاں، مٹکیاں، ایک دیوداسی سانولی سلونی۔ اے حمید نے اس کا عجیب نقشہ کھینچا۔ پھر ٹھنڈا سانس بھر کر کہا کہ ’’وہ ایسی نظروں سے اوجھل ہوئی کہ پھر نظر ہی نہیں آئی۔‘‘
اے حمید کس خمیر کا بنا تھا اور آنکھوں میں کس قسم کے خواب لیے پھرتا تھا۔ مت پوچھیے کہ اپراوتی ندی اور اس نوح کے جنگلوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کا تخیل کیسے کیسے گل کھلاتا۔ پھر اس سب کچھ کا عکس اس کے افسانوں میں بھی نظر آیا۔ یہ رنگ اس کے افسانے کو لے اڑا اور پھر ترقی پسند تحریک ان دنوں اپنے عروج پر تھی۔ اس نے اس دانے کو نگینہ سمجھ کر چن لیا۔
ویسے تو اس قسم کا مزاج ترقی پسند نظریے کو وارا نہیں کھاتا۔ اس کے حساب سے تو یہ فراریت پسندی ہے مگر افراد بھی اور تحریکیں بھی تجربے سے بھی تو کچھ نہ کچھ سیکھتی ہیں۔ کرشن چندر کی مثال سے ترقی پسند تحریک نے یہ جانا کہ ایسی رومانی طبیعتیں بھی اگر تھوڑی سی حقیقت نگاری کو اپنا لیں تو تحریک کے مقاصد پورے کر سکتی ہیں اور کرشن چندر ایسا رومانیت پسند بھی گرجن کی ایک شام، ایسے رومانی افسانے لکھنے کے بعد ’ان داتا‘ جیسا افسانہ بھی لکھ سکتا ہے۔
مگرافسوس کہ اے حمید کرشن چند ر نہیں بن سکا۔بس بنتے بنتے رہ گیا۔ کرشن چندر سے اسے داد بھی کمال ملتی تھی۔ ابھی تک ہمیں اس کا یہ لکھا ہوا فقرہ یاد ہے کہ اے حمید کا افسانہ پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ میں زردے میں ملائی ملا کر کھا رہا ہوں۔ یہ فقرہ خود ایک رومانٹک مزاج کی چغلی کھا رہاہے۔
اے حمید کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس نے اپنے افسانے کے دائرے سے نکل کر جس سمت میں قدم بڑھایا کامیابی نے اس کے قدم چومے۔ اس کے ابتدا کے افسانوں کے دو مجموعے اور ایک ناول’دڑبے‘۔ یہاں وہ اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ مگر ہوا یہ کہ جب اس نے بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا تو وہاں اس کی بہت پذیرائی ہوئی۔ پھر اس نے چند ایسے ناول لکھے جن کے متعلق ادب کے نقادوں کے رائے کچھ بھی ہو مگر قبول عام کی سند اسے مل گئی۔
(انتظار حسین)

0 comments so far,add yours