ہوا کی بالکونی سے ہوا سیٹی بجاتی ہے چلو چلنے کا وقت آیا درختوں سے ہزاروں خُشک پّتے ٹوٹتے ہیں اور اُس کے ساتھ اُڑتے ہیں وُہ شاید خود ...
منظر کے اِرد گِرد بھی اور آر پار دُھند آئی کہاں سے آنکھ میں یہ بے شمار دُھند! کیسے نہ اُس کا سارا سفر رائیگاں رہے جس کا روانِ شوق کی ...
"ہوائے شہر وفا شعاراں" ہوائے شہر وفا شعاراں ہماری بستی کے پاس آئی تو ہم نے دیکھا کہ اُسکے دامن میں بوئے مقتل بسی ہوئی تھی...
آخری چند دن دسمبر کے ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں خواہشوں کے نگار خانے میں ... کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی ا...
میرے شہروں کو کس کی نظر لگ گئی میری گلیوں کی رونق کہاں کھوگئی روشنی بجھ گئی، آگہی سوگئی ہم تو نکلے تھے ہاتھوں میں سورج لئے رات ک...
امجد اسلام امجد اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ، شہر کے بام و ...
امجد اسلام امجد زیرِ لب یہ جو تبسّم کا دِیا رکھا ہے ہے کوئی بات جسے تم نے چھپا رکھا ہے چند بے ربط سے صفحوں میں، کتابِ جاں کے اِک ن...
امجد اسلام امجد ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو خود سے ملنے کی بھی ملتی نہیں فرصت ہم کو روشنی کا یہ مسافر ہے رہِ جاں کا نہیں اپنے...
کہاں آ کے رکتے تھے راستے،کہاں موڑ تھا اسے بھول جا جو مل گیا اسے یاد رکھ،جو نہیں ملا اسے بھول جا وہ تیرے نصیب کی بارشیں،کسی اور چھت پہ ب...
غزل ہم ہی کچھ کارِ محبت میں تھے انجان بہت ورنہ نکلے تھے ترے وصل کے عنوان بہت دل بھی کیا چیز ہے ...
