غزلہم ہی کچھ کارِ محبت میں تھے انجان بہتورنہ نکلے تھے ترے وصل کے عنوان بہتدل بھی کیا چیز ہے اب پا کے اُسے سوچتا ہوںکیا اسی واسطے چھانے تھے بیابان بہتفاصلے راہِ تعلق کے مٹیں گے کیوں کرحُسن پابندِ انا، عشق تن آسان بہتاے غمِ عشق، مری آنکھ کو پتھر کر دےاور بھی ہیں مرے دل پر ترے احسان بہتامجد اسلام امجدؔ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments so far,add yours