صُبح کے وقت، اذاں سے پہلے
اب سے بائیس برس قبل اُدھر
عُمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں
کرب میں ڈوُبی ھُوئی چیخ کو سُن کر مِری ماں ھنس دی تھی
مِری آواز نے اُس کو شاید
اُس کے ھونے کا یقیں بخشا تھا
دُکھ کے اِک لمبے سفر اور اذیت کی کئی راتیں بسر کرنے پر
اُس نے تخلیق کیا تھا مجھ کو
میری تخلیق کے بعد اُس نے نئی زندگی پائی تھی جسے
آنسوؤں نے مِرے بپتسمہ دیا!
ھر نئے سال کے چوبیس نومبر کی سَحر
دُکھ کا اِک رنگ نیا لے کے مِرے گھر اُتری
اور میں ھر رنگ کے شایان سواگت کے لیے
نذر کرتی رھی
کیا کیا تحفے!
کبھی آنگن کی ھری بیلوں کی ٹھنڈی چھایا
کبھی دیوار پہ اُگتے ھُوئے پُھولوں کا بنفشی سایا
کبھی آنکھوں کا کوئی طفلکِ معصوم
کبھی خوابوں کا کوئی شہزادہ کہ تھا قاف کا رھنے والا
کبھی نیندوں کے مُسلسل کئی موسم
تو کبھی
جاگتے رھنے کی بے اَنت رُتیں!
وقت نے مجھ سے کئی دان لیے
اُس کی بانہیں، مِری مظبوُط پناھیں لے لیں
مجھ تک آتی ھُوئی اس سوچ کی راھیں لے لیں
حد تو یہ ھے کہ وہ بے فیض نگاھیں لے لیں
رنگ تو رنگ تھے، خوشبوُئے حنا تک لے لی
سایہ اَبر کا کیا ذکر، رِدا تک لے لی
کانپتے ھونٹوں سے موھوُم دُعا تک لے لی
ھر نئے سال کی اِک تازہ صلیب
میرے بے رنگ دریچوں میں گڑی
قرضِ زیبائی طلب کرتی رھی
اور میں تقدیر کی مشاطہء مجبوُر کی مانند ادھر
اپنے خوابوں سے لہوُ لے لے کر
دستِ قاتل کی حنا بندی میں مصروُف رھی ــــــــــــ
اور یہاں تک ــــــــــ کہ صلیبیں مِری قامت سے بڑی ھونے لگیں!
ھاں کبھی نرم ھَوا نے بھی دریچوں پہ مِرے، دستک دی
اور خوشبوُ نے مِرے کان میں سرگوشی کی
رنگ نے کھیل رچانے کو کہا بھی، لیکن
میرے اندر کی یہ تنہا لڑکی
رنگ و خوشبوُ کی سَکھی بن نہ سکی
ھر نئی سالگرہ کی شمعیں
میرے ھونٹوں کی بجائے
شام کی سرد ھَوا نے گُل کیں
اور میں جاتی ھوُئی رُت کے شجر کی مانند
تنِ تنہا و تہی دست کھڑی
اپنے ویران کواڑوں سے ٹکائے سَر کو
خود کو تقسیم کے نادیدہ عمل میں سے گزرتے ھوُئے بس دیکھا کی!
آج اِکیس صلیبوں کو لہوُ دے کے خیال آتا ھے
اپنے بائیسویں مہمان کی کِس طرح پذیرائی کروُں
آج تو آنکھ میں آنسوُ بھی نہیں!
ماں کی خاموش نگاھیں
مِرے اندر کے شجر میں کِسی کونپل کی مہک ڈھوُنڈتی ھیں
اپنے ھونے سے مِرے ھونے کی مربوُط حقیقت کا سفر چاھتی ھیں
خالی سیپی سے گُہر مانگتی ھیں
میں تو موتی کے لیے گہرے سمندر میں اُترنے کو بھی راضی ھوُں ـــــــــ مگر
ایسی برسات کہاں سے لاؤں
جو مِری رُوح کو بپتسمہ دے!
پروین شاکر

0 comments so far,add yours