کچھ صورتیں تھیں ، کچھ مورتیں تھیں
کچھ اور بھی شاید دیکھا ہو
جہاں نظریں ٹھہری ٹھٹکی ہوں
جہا ں دل کا کانٹا اٹکا ہو
پر ہم کوتو کچھ یاد نہیں
کچھ کھویا ہو ، کچھ پایا ہو
ان باتوں میں، ان گھاتوں میں
سنجوگ کا کوئی لمحہ ہو
ہم اپنے جو خود آپ نہیں
پھر بولو کون ہمارا ہو
یوں سمجھو شہر سرائے میں
شب بھر کے لیے کوئی اترا ہو
کوئی پردیسی ، کوئی سیلانی
وہ جس کا دور ٹھکا نہ ہو
شام آئے سویرے کوچ کیا
جب دھندلا دھندلا رستہ ہو
جب دھرتی سونی سونی ہو
جب امبر پھیکا پھیکا ہو

0 comments so far,add yours