انشا جی کی اس دل دوز غزل کے ساتھ ایک المیہ پس منظر ھے ۔ ان کا انتقال کینسر سے لندن میں ھوا ان کے ساتھ ان کے بھائی محمود ریاض مرحوم تھے دونو بھائی کراچی کے علاقے علامہ اقبال ٹاون میں ساتھ ساتھ بنی کوٹھیوں میں رھتے تھے انشا جی کی کوٹھی کا نام چاند نگر تھا۔ انھوں نے شادی نھیں کی تھی چنانچہ عموماً ریاض صاحب کے لان میں بیٹھے نظر آتے تھے، میت جس طیارے سے کراچی لائی گئی اس میں یہ غزل امانت علی کی پر سوز آواز میں سنائی گٰئی تو اخباری رپورٹس کے مطابق مسافر رو رھے تھے۔ میں جون ایلیا کے ساتھ ایرپورٹ پر موجود تھا اور میں نے بھی مسافروں کو اشکبار دیکھا
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا
اس دل کے دريدہ دامن میں، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا
شب بيتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجير پڑی دروازے پہ
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانہ کيا
پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کریں
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا
(احمد اقبال)

0 comments so far,add yours