غزل (میر محمدتقی میر)
کون کہتا ہے مُنہ کو کھولو تم
کاش کے پردے ہی میں بولو تم

حکم آبِ رواں رکھے ہے حُسن
بہتے دریا میں ہاتھ دھو لو تم

جب میسّر ہو بوسہ اُس لب کا
چُپ کے ہی ہو رہو نہ بولو تم

رات گذری ہے سب تڑپتے میر
آنکھ لگ جائے گر تو سو لو تم

0 comments so far,add yours