’’حضرت عمر بن عبدالعزیز‘‘ طرز حیات اور کارنامے
(ہمارے ایک ممبر "علیم مراد" کی درخواست اور بار بار یادہانی پر حضرت کی شحصیت کے چند گوشے)

حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمه الله علیه) کی شخصیت تعارف سے بے نیاز ہے، عرب کے حکمرانوں کا عزم وجزم، عقل و تدبر پورے تناسب سے اس شخصیت کے دل و دماغ میں جمع ہوگیا تھا، عربی کتب، ادب وتاریخ ان کے تدبر کے واقعات سے لبریز ہیں، ہمیشہ ان کی سیاست کامیاب و کامران رہی، وہ اپنے زمانے کے اہل اللہ اور مقرب الی اللہ تھے۔

جب خلیفہ ولید نے حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمه الله علیه) کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا، تو آپ نے فرمایا کہ میں اسی شرط پر گورنری منظور کرتا ہوں کہ مجھے پہلے گورنروں کی طرح ظلم واستبداد پر مجبور نہ کیاجائے۔
خلیفہ نے کہا: ”آپ حق وعدل پر عمل کریں خواہ خزانہ شاہی کو ایک پائی بھی نہ ملے“ آپ نے مدینہ منورہ پہنچ کر سب سے پہلے علماء واکابر کو جمع کیا اور ان لوگوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ: ”اگر آپ لوگوں کو میری ریاست میں کہیں بھی، کسی پر بھی ظلم وستم ہوتا ہوا نظر آجائے، تو خدا کی قسم مجھے اس کی اطلاع ضرور کریں، جب تک آپ مدینہ کے گورنر رہے کسی شخص نے آپ سے عدل وانصاف، نیکی وبھلائی، سخاوت، فیاضی، ہمدردی وغم گساری اور خیرخواہی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔
خلیفہ سلیمان کی آخری بیماری میں اس سراپا عدل وانصاف کے پیکر کو شک ہوا کہ وہ کہیں آپ کو اپنا نائب اور جانشین نہ مقرر کردے؛ چنانچہ افتاں وخیزاں ”رجاہ بن حیوة“ (وزیراعظم) کے پاس تشریف لے گئے اور یوں گویا ہوئے: ”مجھے خطرہ ہے کہ خلیفہ سلیمان نے کہیں میرے حق میں وصیت نہ کردی ہو؛ لہٰذا اگر اس نے وصیت کی ہوگی، تو آپ کے علم میں تو ضرور ہوگا، آپ مجھ کو بتادیں تاکہ میں استعفا دے کر پہلے ہی سبکدوش ہوجاؤں اور وہ اپنی حیات میں ہی کوئی دوسرا انتظام کرجائیں“ رجاہ بن حیوة نے اس وقت آپ کو ٹال دیا؛ مگر جب وصیت نامہ منصہ شہود پر آیا، تو آپ کا خطرہ بالکل درست ثابت ہوا، اس وقت خلیفہ سلیمان دنیا سے رخصت ہوچکے تھے، اس واسطے آپ نے عام مسلمانوں کو جمع کر کے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میری خواہش اور تمہارے استصواب کے بغیر خلیفہ بنایا گیا ہے، میں تمہیں اپنی بیعت سے خودہی آزاد کرتا ہوں تم جسے چاہو اپنا خلیفہ چن لو“ یہ سن کر مجمع سے بالاتفاق آواز آئی ”یا امیرَالمومنین! ہمارے خلیفہ آپ ہیں“
پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”صرف اس وقت تک جب تک کہ میں اطاعت الٰہی کی حد سے باہر قدم نہ رکھوں“۔
اس گفتگو کے بعد شاہی سواریاں پیش کی گئیں؛ تاکہ آپ محل شاہی میں تشریف لے جائیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”انھیں واپس لے جاؤ! میری سواری کے لیے میرا خچر کافی ہے، جب علماء نے ممبر پر حسب رواج آپ کا نام لیا اور درود وسلام بھیجا، تو آپ نے فرمایا: ”میرے بجائے سب مسلمان بندوں میں مردوں اور عورتوں کے لیے دعاء کرو اگر میں بھی مسلمان ہوں گا، تو یہ دعاء مجھے بھی خود بخود پہنچ جائے گی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دورِ حکومت صرف ڈھائی سال ہے، اس مختصر اور قلیل مدت میں خلقِ خدا نے یوں محسوس کیا کہ زمین وآسمان کے درمیان عدل کا ترازو کھڑا ہوگیا ہے اور فطرتِ الٰہی خود آگے بڑھ کر انسانیت کو آزادی محبت اور خوشحالی کا تاج پہنا رہی ہے، لوگ ہاتھوں میں خیرات لیے پھرتے تھے مگر کوئی محتاج نہیں ملتا تھا کہ یہاں کوئی حاجت مند باقی نہیں رہا تھا، اور عطیات کو واپس کردیتے تھے، عدی بن ارطاط (والیِ فارس) نے آپ کو لکھا کہ یہاں خوش حالی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عام لوگوں کے کبر وغرور میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہوگیا ہے، آپ نے جواب بھیجا لوگوں کو خدا کا شکرادا کرنے کی تعلیم دینا شروع کردو۔

۱۰۱ھ میں اموی خاندان کے بعض لوگوں نے آپ (رحمه الله علیه) کے غلام کو ایک ہزار اشرفی دے کر آپ کو زہر دلوا دیا، آپکو اس کا علم ہوا تو غلام کو پاس بلایا، اس سے رشوت کی اشرفیاں لے کربیت المال میں بھیجوا دیا اور فرمایا: ”جاؤ میں تمہیں اللہ کے لیے معاف اور آزاد کرتاہوں“۔ پھر اپنے بیٹوں کو پاس بلایا اور فرمایا: ”اے میرے بچو! دو باتوں میں سے ایک بات تمہارے باپ کے اختیار میں تھی، ایک یہ کہ تم دولت مند ہوجاؤ اور تمہارا باپ دوزخ میں جائے، دوسری یہ کہ تمہارا باپ جنت میں داخل ہو، میں نے آخری بات پسند کرلی، اب میں تمہیں صرف خدا ہی کے حوالے کرتا ہوں۔

آپ نے بچو کو وصیت کی کہ جب مجھے دفن کرو تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”ناخن اور موئے مبارک“ میرے کفن کے اندر رکھ دینا، اسی وقت پیغام ربانی آگیا اور زبانِ مبارک پر یہ آیات جاری ہوگئیں:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لاَ یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا وَلاَ فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْن۔ اور روحِ اطہر جسم سے پرواز کرگئی۔اِنّا للّٰہ وانا الیہ راجعون

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حضرت عمر بن عبدالعزیز جیسی زندگی اور موت نصیب فرمائے۔ آمین، یا ربَّ العالمین

0 comments so far,add yours