کبھی آپ نے مقناطیس کا چھوٹا سا ٹکڑا دیکھا ہے ،اس ٹکڑے کے دو حصّے ہوتے ہیں ،شمالی قطب ،جنوبی قطب ،،،مقناطیس کو درمیان میں سے کاٹ کر دیکھیے اور کوشش کیجیے شمالی اور جنوبی قطب علیحدہ ہو جاییں ،آپ دیکھ لیں گے کہ نئے دو ٹکڑوں میں پھر شمالی اور جنوبی قطب بیدا ہو جاییں گے ،،آپ مقناطیس کو کاٹنے کے عمل سے چھوٹا کرتے چلے جاییں تو مقناطیس کے آخری مولی کیول میں بھی ایک سرا شمالی اور دوسرا جنوبی قطب ہوگا ،
انسان کا بھی یہی حال ہے
اسے خیر اور شر دونوں سے بنایا گیا ہے ، اس میں آگ اور پانی بیک وقت موجود ہوتے ہیں ،گو اک دوسرے کی ضد ہیں ، لیکن چراغ اندھیرے کے علاوہ روشن نہیں ہو سکتا نہ خوشنما ہی لگتا ہے ،،ہاں ایک بات ہے کچھ الله کے بزر گان دین اپنے شر کو اپنے نفس کو شیطان کو اپنے اندر کے خیر کے تا بیع کر لیتے ہیں اور یہی سب سے بڑی کرامت انسانی ہے ،کتا موجود ہو لیکن زنجیر سے بندھا رہے ،بھونکے تو ضرور کاٹ نہ کھاے ،،،

کتاب :راہ رواں ،،، بانو قدسیہ

0 comments so far,add yours