” الاجتہاد فی الاسلام “ کے موضوع پر اقبال کے ان خیالات کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی مجتہدانہ بصیرت، فقہی شعور، قانونی فراست اور مستقبل شناسی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں مگر علمائے دین کے ذہنوں پر طاری تدخل فی الدین کا خوف، خانقاہوں کی رہبانیت اور سلاطین و ملوک کی حریصانہ تمناؤں کا سنگی حصار ابھی تک اجتماعی اجتہاد کے راستے کا سنگ گراں بنا ہوا ہے۔ عصر حاضر میں سائنسی انکشافات، تکنیکی ایجادات، طبی مشاہدات، مہندسانہ اختراعات اور مشینی مصنوعات نے صرف ایک جہان نو کی ہی تعمیر نہیں کی بلکہ انسان، معاشرے اور ریاست کے مزاج کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ سماجیات، بشریات اور عمرانیات میں نئے نئے تصورات پیدا ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اور معاہدات نے قوانین و ضوابط کے سانچے تبدیل کر دےے ہیں۔ جدید نظم معیشت نے بیع و شرا کے پیمانے تبدیل کر دےے ہیں۔ زرِ خالص کے بجائے زر اعتباری نے اپنا رسوخ حاصل کر لیا ہے بلکہ بڑے بڑے تجارتی سودے انٹرنیٹ کے ذریعے سے طے ہو رہے ہیں جس کے باعث Cyber Crimes کے رجحانات سر اٹھا رہے ہیں۔

معاشیات کی دنیا میں غیر سودی بینکاری مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انشورنس اور اجتماعی تکافل ایک فلاحی معاشرے اور معیشت کا ناگزیر تقاضا بن چکے ہیں۔ اشیاءکے بجائے حصص کی تجارت ہو رہی ہے۔ قرضوں کی اشاریہ بندی مسلم معیشت کے لیے نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ جیب میں بھاری رقوم لیے پھرنے کے بجائے زندگی کریڈٹ کارڈ کی خوگر ہو رہی ہے۔ نقد اور ادھار کی مارکیٹ نے ایک نئی کتاب البیوع مرتب کر دی ہے۔ دارالاسلام، دارالحرب اور دارالعہد کے حوالے سے نئے ضوابط کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ طب کی دنیا میں Mercy Killing خون کی منتقلی، اعضا کی پیوندکاری، آنکھوں کے عطیات، فیملی پلاننگ، کلوننگ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی، ضبط ولادت کی مختلف صورتیں، پلاسٹ سرجری، ایڈز سے متعلق مسائل اور بہت سے دوسرے طبی موضوعات کا ہمیں سامنا ہے۔

معاشرتی زندگی میں عورتوں کے حقوق، شرعی طلاق کی نوعیت، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون پر نکاح و طلاق، نو مسلم بیوی اور غیر مسلم خاوند یا نو مسلم خاوند اور غیر مسلم بیوی کی نوعیت، دیت اور شہادت اور سماجی زندگی سے وابستہ متنوع مسائل درپیش ہیں۔ اسلامی ریاستوں میں رو ¿یت ہلال، فضائی سفر میں نمازوں کی ادائیگی اور روزے کا دورانیہ، ذرائع ابلاغ میں تصویر کا مسئلہ۔ دینی مدارس میں عصری علوم کی شمولیت، اسلامی کیلنڈر‘ مشینی ذبیحہ، انتہا پسندی اور خود کش حملوں کے جواز جیسے اہم مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اسلامی ریاست میں طرز حکومت، شورائیت، طرز انتخاب‘ عدالتی نظام‘ احتساب کے ادارے، ریاستی اداروں کے باہمی تعلقات اور حدود، آئینی مسائل، غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق، خاتون کی حکمرانی، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کی خود مختاری، بنیادی حقوق، نفس جمہوریت، جاگیرداری، ارتکاز دولت، نفع کی حدود کا تعین، کارخانے کے منافع میں کارکنوں کا حصہ، ٹیکسیشن اور زکوٰۃ و عشر جیسے موضوعات پر ہمیں غور و فکر کرنا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں معاہدات کے اصول، قانون بین الممالک کے اصول و ضوابط، فقہ الاقلیات، اشیاءو خدمات کے تبادلے کے اصول، عالمی اداروں کی ہیئت اور ساخت میں مسلمانوں کی شرکت اور قوت جنگ اور امن کے حالات میں ضوابط، بین المذہبی مکالمے کے آداب و رسوم، مذاہب و ادیان کے اکابر کا احترام، مذہبی شعائر اور معابد کی حرمت اور بہت سے دوسرے پیش آمدہ مسائل کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔

اگر آپ امت مسلمہ کے مذکورہ بالا اجمالی موضوعات کی فہرست کو پیش نظر رکھیں تو آپ کا ذہن خود بخود اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ ان سب امور کے لیے ایک اجتماعی اجتہاد کی ضرورت ہے۔ اور یہ سب امور محل اجتہاد ہیں۔ پیش نظر رہے کہ اجتہاد ہمیشہ غیر منصوص مسائل کے بارے میں ہوتا ہے

0 comments so far,add yours