زباں پر ہے نام اُس حیات آفریں کا
جو تنہا ہے روزی رساں عالمیں کا

وہ ربّ المشارق، وہ ربّ المغارب
وہی نور ہے آسمان و زمیں کا

تحیّات زیبا اُسی کے لئے ہیں
جو فرماں روا ہے یسار و یمیں کا

وہی ظلمتوں میں دکھاتا ہے راہیں
سہارا وہی قلبِ اندوہ گیں کا

پہاڑوں کو روئیدگی اُس نے بخشی
ہرا ہے شجر اُس سے جانِ حزیں کا

ہے الحمد ایمان کا حرفِ اوّل
یہی تو ہے سر رشتہ یائے یقیں کا

رسول اور نبی بھیج کر اس نے تائبؔ
دیا درس دنیا کو توقیرِ دیں کا

0 comments so far,add yours