ایہہ تن میرا چشمہ ہووے مُرشد ویکھ نہ رَجّاں ہُو
لُوں لُوں دے مُڈھ لَکھ لَکھ چشمہ ہِک کھولاں ہِک کَجّاں ہُو
اِتنیاں ڈِٹھیاں صَبر نہ آوے ہور کِتے وَل بَھجاں ہُو
مُرشد دا دیدار ہے باہُو لَکھ کروڑاں حَجّاں ہُو

ترجمہ و تشریح

ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم نے اپنے مرتب کردہ "کلامِ سُلطان باہو"کےحواشی بعنوان " اِشارات"
میں اِس بیت کے فنی حُسن کے بارے میں لِکھا ہے ""یہ باہو کے بہترین ابیات میں سے ہے مُرشد کے عین مقابل بیٹھے ہوئے بھی مُرید کو اِس کے دیدار سے سیری نہیں ہوتی اس کیفیت کو لاکھوں آنکھوں میں ایک کھولنے اور ایک بند کرنے سے جِس طرح محسوس کروایا گیا ہے وہ اعجاز ہے""
درویشوں کی نفسیات میں مُرشد کو اِس قدر اوّلیت دی گئی ہے کہ وہ جب سب سے الگ خلوت میں مصروف ہوتے ہیں تو مرشد کے تصور کو مکمل طور پر اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں۔
بلکہ یہاں تک خیال کرتے ہیں کہ میں نہیں بلکہ خود مُرشد ذِکر میں مصروف ہے گویا اِن کے اعضاء مُرشد کے اعضاء ہیں اِن کا قلب مُرشد کا قلب ہے اور اِن کی زبان مُرشد کی زبان ہے۔
یہی کیفیت جب بڑھتی ہے تو کبھی کبھی اِنہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود کام نہیں کر رہے بلکہ مُرشد کر رہا ہے۔کِتاب لِکھیں تو محسوس کرتے ہیں کہ مُرشد لِکھ رہا ہے بلکہ پِھر کوئی کرامت بھی اُن سے سرزد ہو تو مُرشد کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔۔
مُرشد کیساتھ تعلق پیدا ہوتے ہی اِس اُنس و محبت کی اِبتدا ہو جاتی ہے جو بڑے دُور رس نتائج کی حامل ہوتی ہے۔درویش مُرشد کو اِس کے ظاہر و باطن سمیت قبول کر لیتا ہے۔ہر معاملے میں اِس کی پیروی کرتا ہے حتٰی کے اس کے کِردار پر مُرشد کی گہری چھاپ لگ جاتی ہے اِس سے درویش اپنی نِسبت کے حوالے سے فوراً پہچانا جاتا ہے۔
مُرشد کی صُحبت میں یا غیِبت میں درویش کی توجہ ہر آن مُرشد کی طرف منعطف رہتی ہے اور وہ اپنا ظاہر باطن مُرشد کے ظاہر و باطن سے فیضیاب ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔اِس عالم میں درویش جو وجد اور اہتیزاز محسوس کرتا ہے اُسے اِس بیت میں بیان کیا گیا ہے۔
مُرشد کا دیدار لاکھ کروڑ حج سے یوں بہتر ہے کہ اِسی دیدار اور فیض سے وہ ایسی قُوت حاصل کرتا ہے جو اِسکی تمام عِبادات اور ریاضات کا محرک اور سبب بنتی ہے اِسی لئے مولانا رُوم نے فرمایا
یک زمانہ صحبتے با اولیاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہتر از صد سالہ طاعت بے رِیا

اِس بیت کی شعری خوبیوں کا ہر ایک معترف ہے بلکہ سماع کی تقریبات میں سُن کر اس کے حُسنِ صوت اور تخیل سے سامعین اِتنے متاثر ہوتے ہیں کہ جھومنے لگتے ہیں،شِدتِ شوق اور اِضطرابِ عِشق کا اِظہار اِس سے بہتر نہیں ہو سکتا "" لُوں لُوں دے مُڈھ لکھ لکھ چشماں ہِک کھولاں ہِک کجّاں ہُو"" ۔۔یعنی پلک جھپکنا بھی گوارا نہیں اگر ایک آنکھ کی پلک جھپکے تو دوسری کُھلی رہے۔۔عاشق کو نظارے کا وقتی طور پر ہی سہی ایک لمحے کے لئے ٹوٹ جانا بھی ناگوار ہے۔۔۔۔

0 comments so far,add yours