ایک عارف باللہ کی باتیں تو بہت اثر انگیز ہوتی ہیں مگر اس کی صحبت سے جو فیض پایا جاتا ہے اس کی جھلک آپ کو جناب یوسف سلیم چشتی کی اس تشریح سے پیش کر رہا ہوں۔۔ غزل ہے۔۔جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں ،زمینوں میں۔۔۔بانگ درا۔۔یہ بہت طویل غزل ہے اس لیے اسے سلسلہ وار پوسٹ کروں گا۔مکمل غزل کا تبصرہ چشتی صاحب یوں کرتے ہیں:
یہ طویل غزل سراسر تصوف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔اور جن لوگوں کا دل سوز وگداز سے آشنا ہے، اُن کی نظر میں اس کا ہر شعر آب حیات کا حکم رکھتا ہے۔غور سے دیکھو تو تو یہ غزل نہیں ہے بلکہ حقائق کے پھولوں کا گلدستہ ہے جسے اقبال نے عقیدت کے ہاتھوں سے سجایا ہے۔اس میں حمد باری بھی ہے،نعتِ رسولؐ بھی ہے،معرفت(روحی لۂ الفداء) بھی ہے فلسفہ بھی ۔تغزل بھی ہے،سوزوگداز بھی ہے،وحدت الوجود بھی ہے اور اللہ والوں کے فوائد کی طرف بھی اشارہ ہے۔
جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں،زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
فرماتے ہیں میں،اپنی نادانی کے سبب سے،مدتوں خدا کو کائنات کی وصعت میں تلاش کرتا رہا۔ لیکن جب مرشد رومی کی باطنی توجہ سے میرے دل کی آنکھیں روشن ہو گئیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ محبوب حقیقی میرے دل میں پوشیدہ ہے۔
حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی
مکاں نکلا ہمارے خانئہ دل کے مکینوں میں
جب اپنی حقیقت اپنی آنکھوں پر عیاں ہوئی،اور یہ صرف مرشد کی صحبت میں بیٹھ کر حاصل ہو سکتی ہے۔تو یہ معلوم ہوا کہ جو کچھ باہر نظر آتا ہے،یعنی ساری کائنات،میرے دل میں موجود ہے۔۔۔واضع ہو کہ ان دو شعروں میں اقبال نے سارے تصوف کا خلاصہ بیان کر دیا ہے ۔یعنی یہ کہ انسان عالم صغیر ہے،سب کچھ اس کے اندر موجود ہے اور جو شخص اپنی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے اسے خدا کی معرفت(پہچان) بھی حاصل ہو جاتی ہے
اگر کچھ آشنا ہوتا مذاقِ جبہ سائی سے
تو سنگ ِ آستانِ کعبہ جا ملتا جبینوں میں
مذاقِ حبہ سائی۔پیشانی گھسنے یا رگڑنے کی عادت یا خواہش، مراد ہے نیاز کی لذت۔۔ سنگِ آستانہ کعبہ۔خانہ کعبہ کی چو کھٹ کا پتھر جس پر امام،لا محالہ،بوقت سجدہ اپنا سر رکھتا ہے۔۔جا ملتا جبینوں میں۔۔یعنی سجدہ کرنے والوں میں شامل ہو جاتا۔ مطلب یہ ہے کہ محبوب کے دروازے پر سجدہ کرنے میں جو لذت ہے اگر سنگ کعبہ اس سے آگاہ ہو جائے تو شاید وہ بھی عاشقوں میں شامل ہو جائے۔۔۔
اس پھولوں کے گلدستے کی بقیہ تشریح کا انتظار فرمائیں۔
بشکریہ۔۔شرح بانگِ درا۔۔۔جناب یوسف سلیم چشتی صاحب
 

4 comments so far,Add yours

  1. لا جواب
    Pdf file download دستیاب کریں

    ReplyDelete

  2. محل ایسا کیا تعمیر عرفی کے تخیل نے
    تصدق جس پہ حیرت خانۂ سینا و فارابی
    اس کی تشریح درکار ہے

    ReplyDelete
  3. کمال است
    لا جواب
    کمال

    ReplyDelete