ایہہ تن رب سچے دا حُجرہ کِھڑیا باغ بہاراں ہُو
وِچّے کُوزے وِچ مُصّلے سجدے دیاں ہزاراں ہُو
وِچے کعبہ وِچے قِبلہ اِلّا اللہ پُکاراں ہُو
کامل مُرشد مِلیا باہُو آپے لَیسی ساراں ہُو
ترجمہ و تشریح
ہر اِنسان کے اندر قلب ہے اور اِس کے اوپر عرشِ رحمان ہے۔۔یہ رب تعالٰی کی جگہ ہے فقیر اِس قلب میں ذِکر جاری رکھے گا تو اللہ اپنے تئیں اس پر ظاہر کر دے گا۔۔
حضرت سُلطان العارفین صوفی شاعروں کی طرح شعر اور کشف کی زبان کو یکجا کر دیتے ہیں۔
بہار اور گلزار سے مراد ذوق و شوق اور مقامِ کشف و اِسرار ہے ۔جب آدمی اپنے اندر موجود قلب کی طرف متوجہ ہو کر فکر و مراقبہ میں مشغول ہوتا ہے تو اس کا ذوق و شوق بڑھتا ہے اور معرفت کے بھید اس پر کُھلتے ہیں۔یہ اس کے لئے باغ و بہار کا عالم ہوتا ہے یعنی اسے اس میں ایسا لُطف محسوس ہوتا ہے جیسے فصلِ بہار اور سیرِ لالہ و گُل سے کسی کو حاصل ہوتا ہے۔
اس قلب کے اندر سب کچھ ہے یہیں کُوزے ہیں کہ وضو کر کے پاکیزگی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے یعنی تزکیہ سے بندہ اپنے تئیں پاک کرے۔یہیں مصلے ہیں یعنی توجہ اِلی اللہ کا مقام بھی یہیں ہے۔اور اِس مقام (قلب) پر درویش جب مراتب پر فائز ہوتا ہے تو ہزاروں سجدوں کی سی تاثیر اسے مَلکی صِفات سے مستفیض کرتی ہے۔
کعبہ و قِبلہ سِمت کی درستی کی علامت ہے۔ذِکر قلبی میں توجہ کی سِمت اللہ کی طرف ہوتی ہے پِھر اِلٰہی ذات اِس کا مرکز بن جاتی ہے اور درویش ماسویٰ اللہ سے منہ موڑ کر اللہ اللہ پُکارتا رہتا ہے۔
یہ سب خصوصیات مرشدِ کامل کی صُحبت اور ہِدایت کے طفیل حاصل ہوتی ہیں،مُرشدِ کامل کے ساتھ طالبِ حق کا جو تعلق قائم ہوتا ہے اسے وہ لوگ نہیں سمجھ پاتے جو فقیروں کے حلقہ کے رُکن بھی نہیں رہے اور مشائخ کی تعلیم و تربیت سے بہرہ اندوز بھی نہیں ہوئے۔
بات درویشی اور فقیری کی ہو رہی ہے، اس کا بُنیادی اَصول یہ ہے کہ اس میں کوئی کام بھی غیر ذِمہ دارانہ انداز میں نہیں ہوتا،پوری ذِمہ داری کے اِحساس کے ساتھ قدم آگے بڑھایا جاتا ہے ۔مرشد کی حیثیت نِگرانِ اعلیٰ کی سی ہوتی ہے جو اپنے تئیں طالب یا مرید کی ہر حرکت سے باخبر رہتا ہے اور یہ بات نہ ِصرف مُرید کے عِلم میں ہوتی ہے بلکہ اسے مرشد کی اس اہلیت پر پُورا بھروسہ ہوتا ہے ،،،،،،
0 comments so far,add yours