سن بابا لوکا!

کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا

مجھے جا بجا تیری جستجو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کو بہ کو
کہاں کھل سکا ترے روبرو مرا اس قدر تجھے ڈھونڈنا

مرا خواب تھا کہ خیال تھا وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا

تو اس کو ڈھونڈنے اور اس کا کھوج پانے کے لیے کہاں چلا گیا، کدھر کو نکل گیا؟
اس کو ڈھونڈنے اور اسے پانے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔ راستے تو دور جانے کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔ سفر تو کرنے اور منزلیں طے کرنے لیے ہوتے ہیں۔ یہاں سے تو کہیں جانا ہی نہیں۔۔۔ کہیں پہنچنا ہی نہیں، پھر راستہ کیسا؟ اسے پانے اور اسے کھوجنے کے لیے , , تو ہمیں اپنے اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے وجود میں ڈھونڈنا ہے۔ بابو لوکا! اپنی شہ رگ کے ساتھ تلاش کرنا ہے۔۔۔ اور جب اپنی شہ رگ کے پاس پہنچ گئے تو پھر وہاں موجاں ہی موجاں۔۔۔ میلے ہی میلے۔ بڑی دور چلا گیا ہے بابو لوکا! پر میری بات سن لے کہ اصل میں کوئی راستہ وہاں نہیں ,, جاتا۔۔۔ اس تک نہیں لے جاتا۔ وجہ یہ ہے بابو لوکا کہ وہ وہاں نہیں (گلے کے نیچے ہاتھ لگا کر)، یہاں ہے!۔ اور یہاں کے لیے کوئی راستہ نہیں۔۔۔ کوئی پگڈنڈی نہیں۔ بس اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے اندر۔ اندر دیکھنا ہے۔۔۔ اندر جھات ڈالنی ہے کہ کوئی گند بلا تو نہیں۔۔۔ کوڑا کرکٹ تو نہیں؟ شہ رگ کے تخت طاؤس کے نیڑے نیڑے۔۔۔۔ شرک، منافقت تو نہیں اندر۔۔۔ بس پھر ستے ای خیراں۔

کہاں ہے پردہ کدھر ہے محفی کب اسکا مکھڑا نقاب میں ہے،
قصور اپنی نگاہ کا ہے وگرنہ وہ کب حجاب میں ہے۔،

اشفاق احمد - من چلے کا سودا

0 comments so far,add yours