حضرت ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ،جس انسان کو زندگی میں صبح نصیب ہو،اس پر لازم ہے کہ وہ چار باتوں پر شکر اداکرے :
۱)وہ کہے کہ سب تعریفیں اللہ رب العزت ہی کے لیے ہیں ،جس نے میرے دل کو نور ہدایت سے روشن کیا، مجھے اہل ایمان میں سے بنایا اورگمراہی کی دلدل سے محفوظ رکھا ۔
۲)وہ کہے ، سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے محمد مصطفےٰ علیہ التحیہ والثناءکی امت میں پیدا کیا۔
۳)وہ کہے، سب تعریفیں اس اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے میرا رزق کسی اورکے ہاتھ میں نہیں دیا۔
۴)وہ کہے ،سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے عیبوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔
٭حضرت شفیق بن ابراہیم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر ایک شخص کو دوسوسال کی زندگی بھی نصیب ہو، لیکن اسے چار باتوں کی پہچان نصیب نہ ہو تووہ یقینا گرفت کا مستحق ہے۔ ۱:۔ معرفت الہٰی ۲:۔ معرفت اعمال الہٰی ۳:۔ معرفت نفس ۴:۔ اللہ رب العزت کے دشمنوں اوراپنے دشمنوں کی پہچان ۔
معرفتِ الہٰی سے یہ مراد ہے کہ وہ ظاہر وباطن میں یہ پہچان رکھے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوانہ توکوئی عطاءکرنے والا ہے نہ کوئی ایسا ہے جو اس کے کرم اور رحمت کو روک سکے۔اعمال الہٰی میں عرفان وشناسائی سے مراد یہ ہے کہ اسے اچھی طرح ادراک ہوجائے کہ پروردگار فقط اسی عمل کو قبولیت سے سرفراز فرماتا ہے جو محض اس کی رضاءاورخوشنودی کے لیے ہو۔اپنے نفس کی معرفت سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے ضعف وکمزوری کو پہچان لے کہ اس میں اتنی استطاعت اورقوت نہیں ہے کہ تقدیر الہٰی میں سے کسی چیز کو لوٹا سکے، پس اسے اللہ کی تقسیم پر راضی ہوجانا چاہیے۔اللہ جل شانہ¾ کے دشمنوں اورخود اپنے دشمنوں کی پہچان کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شرکو پہچان لے اورمعرفت کے ذریعے سے ان دشمنوں کی بیخ کنی کردے۔
٭حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے استفسار کیاگیا کہ اے روح اللہ ! آپ کی صبح کیسے ہوتی ہے؟آپ نے ارشادفرمایا: میں تو اس حالت میں صبح کرتا ہوں کہ جس نعمت کی امید لیے اٹھتا ہوں اسکا خود مالک نہیں ہوں، اورجس چیز سے خوف زدہ ہوں اسے دور کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے، میں اس حال میں صبح کرتا ہوں کہ میرے اعمال گروی رکھے ہوتے ہیں ،بھلائی تمام کی تمام دوسرے کے ہاتھ میںہے اور میں ایسا محتاج وفقیر ہوں کہ مجھ سے زیادہ تنگ دست کوئی اورنہ ہوگا۔ حضرت مالک بن دینار سے پوچھا گیا کہ آپ صبح کیسے کرتے ہیں ؟انہوںنے فرمایا :اس شخص کی کیا صبح ہے؟جو ایک جہاں سے دوسرے جہاں میں منتقل ہونیوالا ہے اور اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا ٹھکانہ جنت ہے یا جہنم ۔(تنبیہ الغافلین ،امام ابوللّیث سمر قندی )

0 comments so far,add yours