یہ
کائنات ایک سوال ہے۔ سوال در سوال، اور ہر سوال کا جواب صرف خالقِ کائنات
کے پاس ہے کیونکہ وہ ہر عمل میں با اختیار ہے ‘ جس کا جواز بھی اُس کے پاس
ہے۔ صاحبِ جواز ہی صاحبِ جواب ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلا سوال بھی اس نے خود
ہی اٹھایا کہ میں نے کائنات کو تخلیق کیوں کیا؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا
کہ ’’ میں ایک مخفی خزانہ تھا ‘ میں نے چاہا کہ پہچانا جائوں، سو میں نے
کائنات کو پیدا کیا‘‘ دوسرا سوال انسان کی ...تخلیق
پر فرشتوں کی طرف سے اعتراض کی صورت میں سامنے آیا: اے رب العزت! انسان
دنیا میں فساد پیدا کرے گا ‘ تو صاحبِ جواز نے فرمایا:’’ جو میں جانتا ہوں
تم نہیں جانتے‘‘
سوال اعتراض ہے ‘ جواب اطمینان ہے۔ سوال اضطراب ہے‘ جواب سکون ہے۔ سوال تجسس ہے اور جواب حاصل ہے۔ ایک اعتراض ابلیس نے کیا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے تو آدم کو سجدہ کیوں کروں۔ خدا تعالیٰ نے الفاظ کی صورت میں اس کا جواب دینے کی بجائے ابلیس کو بزمِ لامکاں سے نکال کر زمین پر بھیج دیا کہ جائو انسانوں کے درمیان اس سوال کا جواب تلاش کرو کہ تم بہتر ہو یا اولادِ آدم؟
واصف علی واصف
سوال اعتراض ہے ‘ جواب اطمینان ہے۔ سوال اضطراب ہے‘ جواب سکون ہے۔ سوال تجسس ہے اور جواب حاصل ہے۔ ایک اعتراض ابلیس نے کیا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے تو آدم کو سجدہ کیوں کروں۔ خدا تعالیٰ نے الفاظ کی صورت میں اس کا جواب دینے کی بجائے ابلیس کو بزمِ لامکاں سے نکال کر زمین پر بھیج دیا کہ جائو انسانوں کے درمیان اس سوال کا جواب تلاش کرو کہ تم بہتر ہو یا اولادِ آدم؟
واصف علی واصف
0 comments so far,add yours