آرے کلامِ حق بزبانِ محمد ﷺ است
حق جلوہ گر زطرزِ بیانِ محمد ﷺ است
واقعی کلامِ حق حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوتا ہے
حضور نبی کریم ﷺ کے بیان میں ذاتِ خداوندی جلوہ گر ہے
آئینہ دار ِ پرتو مہر است ماہتاب
شانِ حق آشکار زِ شان محمد ﷺ است
ماہتاب سورج کے عکس کا آئینہ دار ہے
حضرت رسول اللہ ﷺ کی شان و عظمت سے خدا کی عظمت و شان کا پتا چلتا ہے
تیرِ قضا ہر آئنہ در ترکش ِ حق است
اما کشاد آن زِ کمان محمدﷺ است
قضا کا تیر بلا شبہ حق ہی کے ترکش میں ہوتا ہے
لیکن یہ تیر حضور ﷺ کی کمان سے چلتا ہے
دانی ، اگر بہ معنی "لولاک" وارسی
خود ہر چہ از حق است از آنِ محمد ﷺ است
اگر تو لولاک کے معنی پوری طرح سمجھ لے، تو تجھ پر یہ بات واضح ہو جائے گی
جو کچھ خدا کا ہے وہ حضور ﷺ ہی کاہے
ہر کس قسم بدانچہ عزیز است ، می خورد
سوگندِ کردگار بجانِ محمد ﷺ است
ہر کوئی اس چیز کی قسم کھاتا ہے جو اسے عزیز ہوتی ہے
چنانچہ اللہ تعالیٰ جانِ محمد ﷺ کی قسم کھاتا ہے
واعظ حدیث سایہ طوبیٰ فرو گذار
کاینجا سخن زِ سرو روانِ محمد ﷺ است
اے واعظ !تو طوبیٰ کے سائے کی بات چھوڑ دے
کیونکہ یہاں حضرت محمد ﷺ کے قد مبارک کی بات ہو رہی ہے
بنگر دو نیمہ گشتن ماہ ِ تمام را
کان نیمہ جنبشے زِ بنانِ محمد ﷺ است
تو ذرا چودھویں کے چاند کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ
یہ حضرت محمد ﷺ کی مبارک انگلیوں کے ذرا سے اشارے کا نتیجہ ہے
ورخود ز نقشِ مہر ِ نبوت سخن رود
آن نیز نامور زِ نشانِ محمد ﷺ است
اور اگر مہر ِ نبوت کے نشان کے بارے میں بات ہو
وہ بھی حضور ﷺ کا نشان ہونے کی نسبت سے نامور ہوا ہے
غالب ثنائے خواجہ بہ یزدان گزاشتم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد ﷺ است
غالب نے حضور ﷺ کی نعت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے
کیونکہ وہ ذاتِ پاک ہی حضرت محمد ﷺ کی شان و عظمت سے صحیح معنوں میں آگاہ ہے

Back To Top
0 comments so far,add yours