الف اللہ جاں سہی کیتوسے چمکیا عِشق اگوہاں ہُو
راتیں دینہاں تا تکھیرے کرے اگوہاں سُونہاں ہُو
اندر بھائیں اندر بالن اندر دے وِچ دھواں ہُو
شاہ رگ تھیں رب نیڑے باہُو عِشق کیتوسے سُونہاں ہُو

ترجمہ و تشریح

ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم "عِشق اگوہاں" کے معنی عِشق ازلی سمجھے ہیں،ظاہر ہے کہ وہ اَگوہاں کے معنی "پہلے کا یا آگے کا" کر رہے ہیں۔۔۔سُلطان اِلطاف علی صاحب نے" اگوہاں" کے معنی "اور آگے" لِکھے ہیں اور یہی صحیح ہیں اور آگے سے مُراد اور زیادہ۔۔
ذِکر و فِکر سے اِنسان کے اندر عِشق کا جو جذبہ سو رہا ہوتا ہے جاگ اُٹھتا ہے،اگر پہلے سے اِس میں حرکت موجود ہو تو پِھر وہ چمک اُٹھتا ہے،،،اِقبال نے بھی مردِ خدا کی اِس کیفیت کو ایک مِصرع میں یوں بِیان کیا ہے
وہ ذِکر کی گرمی سے شعلے کی طرح روشن
دُرویشی طریق میں اِبتدا ہمیشہ ذِکر سے ہوتی ہے جو مُرشد تلقین کرتا ہے۔اِس سے رُوحانی قُوتیں جاگ اُٹھتی ہیں یا روشن ہو جاتی ہیں،مزاج میں تپش پیدا ہو جاتی ہے اور رات دِن دُرویش کے لئے ایک آزمائش کا عالم ہوتا ہے مگر اِس سوزش و تپش کے ساتھ دُرویش معرفت میں بھی بڑھتا ہے کیونکہ وہ عِشق کی مُختلف حالتوں اور کیفیتوں سے گُزرتا ہے تو عِلم میں اِضافہ ہوتا ہے اور اِس جاننے اور پہچاننے سے اس کے اندر یقین بھی بڑھتا ہے چُنانچہ عِشق کے بارے میں کہا ہے
کرے اگُوہاں سُوہاں ہُو
بہت ہلچل اور حرکت دُرویش کے باطن میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔عِشق کی آگ بھی باطن میں بھڑکتی ہے اور اِسے ایندھن بھی اندر ہی سے مِلتا ہے اور اثرات بھی پہلے پہل اندر ہی نُمایاں ہوتے ہیں (اندر دے وِچ دُھواں ہُو)۔۔۔جب عِشق کی بدولت اِنسان مرتبہِ معرفت تک پہنچتا ہے تو پِھر رب کی ذات ایک "گُنجلدار بُجھارت" نہیں رہتی بلکہ وہ اُسے اپنی شہ رگ سے بھی قریب پاتا ہے۔۔۔
سُلطان العارفین کا یہ بیت دُرویشی کے تمام سُلوک و طریق کو بیان کر رہا ہے یعنی فقیر مُرشد سے صحیح طور پر ذِکر و فِکر سیکھتا ہے۔اِس ذِکر سے جذبہِ عِشق بیدار ہو جاتا ہے
عِشق کی تپش سے گو طبیعت گَرما جاتی ہے مگر ساتھ ہی معرفت حاصل ہونے لگتی ہے
فقیر یہ سب کچھ اپنے اندر کرتا اور دیکھتا ہے اور بالآخر رب کی پہچان اُسے حاصل ہو جاتی ہے۔۔۔۔

0 comments so far,add yours