شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں

مجاہدوں کا سا نور لیے
تیرے سامنے فخر سے کهڑا هوں

اور میری ماں

سینے پہ تمغے سجائے
مجاہدوں کا سا نور لیے

تیرے سامنے فخر سے کهڑا هوں

میری ماں یہ سن کر
ہنس دیا کرتی تھی
میں اکثر ماں سے کہتا تھا
اس دن میرا انتظار کرنا
جب دھرتی تیرے بیٹھے کو پکارے گی

اور ان عظیم پربتوں کے
درمیان بہتے
اشو کے دریا کا نیلا پانی

اور سوات کی گلیوں میں
بارش کے قطروں کی طرح گرتی
روشنی کی کرنیں
پکاریں گی

اور پھر اس دن کے بعد
میرا انتظار نہ کرنا

کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر
سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں

مگر میری ماں ----
آج بهی میرا انتظار کرتی ہے

گهر کی چوکھٹ پہ بیٹهی
لمحے گنتی رہتی ہے
میرے لیے کهانا ڈهک رکهتی ہے

کبهی جو تمہیں
میری ماں ملے
تو اس سے کہنا
وه گهر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے

خاکی وردی میں جانے والے
لوٹ کر کب آتے ہیں؟

میں اکثر ماں سے کہتا تها
یاد رکهنا
اس دهرتی کے سینے پہ میری بہنوں کے آنسو گرے تهے
مجھے وه آنسو
انہیں لوٹانے ہیں

میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تهے
اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تها

مجھے مٹی میں ملنے والے
اس لہو کا
قرض اتارنا ہے

اور میری ماں یہ سن کر
نم آنکھوں سے
مسکرا دیا کرتی تھی

کبهی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اس سے کہنا
اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا
اور
دهرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تهے

میں اکثر ماں سے کہتا تها
میرا وعدہ مت بهلانا

کہ جنگ کے اس میدان میں
انسانیت کے دشمن
درندوں کے مقابل
یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا
اور ساری گولیاں
سینے پہ کهائے گا

اور میری ماں
یہ سن کر تڑپ جایا کرتی تھی

کبهی جو تمہیں
میری ماں ملے تو اس سے کہنا

اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا
اس نے پیٹھ نہیں دکهائی تهی
اور ساری گولیاں سینے پہ کهائیں تهیں

میں اکثر ماں سے کہتا تها
تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو

ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو ، ماں
ہمارے جنازے ہمیشہ
جوان اٹهتے ہیں

اور میری ماں ---

میری ماں یہ سن کر رو دیا کرتی تھی

کبهی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اس سے کہنا
وه فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے

اور
دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر
میرا انتظار نہ کیا کرے

سنو ---
تم میری ماں سے کہنا
اس سے کہنا وه اب بهی ہنستی رہا کرے
کہ
شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں
شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں

0 comments so far,add yours