غزلِپروین شاکر کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والازخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والازندگی سے کسی سمجھوتے کے باوصف اب تکیاد آتا ہے کوئی مارنے، مرنے والااُس کو بھی ہم تیرے کُوچے میں گزار آئے ہیںزندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والااُس کا انداز سُخن سب سے جُدا تھا شایدبات لگتی ہوئی، لہجہ وہ مُکرنے والاشام ہونے کو ہے اورآنکھ میں اِک خواب نہیںکوئی اِس گھر میں نہیں روشنی کرنے والادسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کےسو بِکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والااِسی اُمّید پہ ہر شام بُجھائے ہیں چراغایک تارا ہے سرِ بام اُبھرنے والاپروین شاکر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments so far,add yours