جو دل پے گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
اسبابِ غم عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے
ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑہے گی
ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے
منظور یہ تلخی یہ سِتم ہم کو گوارا
دم ہے تو مدوائے الم کرتے رہیں گے
مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخی مے سے
تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے
باقی ہے لہو دل میں تو ہرا شک سے پیدا
رنگِ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے
اِک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اِک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

- فیض احمد فیض

0 comments so far,add yours