ہائے مہماں کہاں یہ غم جاناں ہو گا
خانہء دل تو کوئی روز میں ویراں ہو گا

ہو کے ظاہر تو کیا عشق نے ایک حشر بپا
حسرت اُس دل پہ کہ جس دل میں یہ پنہاں ہو گا

محضر دل ہی پہ رکھتا نہ محبت تیری
میں نہ سمجھا تھایہ کمبخت پشیمان ہو گا

کو ستا ہوں جو نصیبوں کو تو کہتا ہے وہ شوخ
پھر محبت نہ کرے گا اگر انساں ہو گا

جس قدر آج ستانا ہے ستا لے ہم کو
روز محشر بھی تو کل اے شب ہجراں ہو گا

دم مری آنکھوں میں اٹکا ہے کہ دیکھوں تو سہی
کیا مسیحا سے مرے درد کا درماں ہو گا

زندگی عشق میں مشکل ہے تو مر جائیں گے
اب سے وہ کام کریں گےکہ جو آساں ہو گا

اب کہاں لخت جگر سینے میں اے دیدہ ء تر
اور ہو گا تو سر گوشہ داماں ہو گا

آپ کے سر کی قسم داغ کو پرواہ بھی نہیں
آپ کے ملنے کا ہو گا جسے ارماں ہو گا

داغ دہلوی

0 comments so far,add yours