غزلِ​
اسدالله خاں غالب ​
​
کی وفا ہم سے تو غیر اُس کو جفا کہتے ہیں ہوتی آئی ہے کہ اچّھوں کو بُرا کہتے ہیں​
​
آج ہم اپنی پریشانیِ خاطر اُن سے کہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھیے کیا کہتے ہیں​
​
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، اِنھیں کچھ نہ کہو جو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں​
​
دل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سے اور پھر کون سے نالے کو رسَا کہتے ہیں؟​
​
ہے پرے سرحدِ ادراک سے، اپنا مسجود قبلے کو، اہلِ نظر، قبلہ نُما کہتے ہیں​
​
پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے خارِ رہ کو تِرے ہم مِہرِ گیا کہتے ہیں​
​
اِک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائیگا کیا آگ مطلوب ہے ہم کو ،جو ہَوا کہتے ہیں​
​
دیکھیے، لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگ اُس کی ہر بات پہ ہم نامِ خُدا کہتے ہیں​
​
وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شاید مر گیا غالبِ آشفتہ نوا، کہتے ہیں​
​

0 comments so far,add yours