چھوٹی سی نیکی:
یہ آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ منورکا باپ ایک دور دراز علاقے میں چوکیداری کرتا تھا۔ گائوں کے زمین دار نے باہر کھیتوں کے دوسرے کنارے پر اسے چار کنال زمین دی تھی جس میں اس نے دو کمروں کا گھر بنا لیا باقی زمین میں کچھ سبزیاں وغیرہ بیج کر گزارا کرتا تھا۔ چار میل دور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں منور نے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ وہ ہونہار اور محنتی تھا اس لیے اس کی فیس بھی معاف ہوگئی اور وہ یوں میٹرک تک پہنچ گیا۔ کالج میں پڑھائی جاری رکھنے کے لیے اس نے لاہور کا رخ کیا اور اسے اسلامیہ کالج میں داخلہ مل گیا۔ کئی ہفتوں کی بھاگ دوڑ کے بعد اسے ایک اخبار کے دفتر میں رات کی شفٹ میں پارٹ ٹائم نوکری بھی مل گئی۔ صبح صبح اُٹھ کر وہ اخبار بیچتا اور یوں اس تلخ شب و روز میں چار سال بیت گئے اور اب وہ بی اے پاس کر گیا تھا۔ اسے شروع ہی سے افسانے، کہانیاں اور ڈرامے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اخبار کے دفتر سے وابستہ ہونے کے ناطے اس کو خود لکھنے کی آرزو نے ایسا جکڑ کر رکھ دیا کہ اس نے اسی کو اپنا پروفیشن اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں، افسانے اور ڈرامے وغیرہ لکھ کر مختلف اداروں میں بھیج دیتا۔ ان دنوں اگر کوئی آرٹیکل منظور ہو جاتا تو معاوضہ بھی دس بیس روپوں سے زیادہ نہ ہوتا۔ کئی ماہ گزر گئے اس کے صرف دو ایک آرٹیکل ہی بک سکے۔ باقی کسی نے ہاں یا ناں میں کوئی رابطہ ہی نہ کیا۔ اب منور کا گزارہ مشکل ہوگیا۔ اگر وہ نوکری کرے تو لکھنے کا موڈ نہ بنتا اور اگر نوکری نہ کرے تو بھوکا مرتا۔ اس کے ماں باپ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ اس نے سوچا کہ وہ کیوں نہ گائوں کے باہر اس چھوٹے سے کچے گھر میں جا کر یک سوئی سے کوئی بڑی، کوئی عمدہ چیز لکھے۔ ماں کے چاندی کے زیور بیچ کر اسے دو سو روپے مل گئے۔ سو روپے میں اس نے مکئی کے عمدہ بیج خرید لیے۔ اسے چھلی یعنی Corn بہت پسند تھی۔ اس نے سوچا اپنی چھوٹی سی زمین میں وہ یہ مکئی اور تھوڑی سی دوسری سبزیاں بیج لے گا۔ آٹا وغیرہ خرید کر وہ چھوٹی سی پونجی میں پانچ چھ ماہ تک گزر اوقات کرسکتا ہے۔ گائوں پہنچ کراس نے بہت محنت کی اور ایک ہفتے کے اندر ہی ایک کنال میں وہ قیمتی بیج بو دیے۔ بالٹیاں بھر بھر کر اس نے پانی دیا۔ دوسرے دن جب اٹھا تو دیکھا تمام بیج چوہے کھا گئے تھے اور زمین ویسی کی ویسی خالی تھی۔ ایک ہفتہ اور گزر گیا۔ اس نے ایک ناول لکھنے کا آغاز کر دیا۔ گائوں کے تندور سے روٹیاں لے آتا اور چٹنی وٹنی بنا کر لکھنے میں مصروف رہنے لگا۔ ہر پانچ دن کے بعد چار میل دور ڈاک خانے جا کر معلوم کرتا کہ شاید لاہور میں لکھے گئے آرٹیکلز کا کچھ معاوضہ ہی مل جائے جس کے لیے وہ اپنا نیا ایڈریس چھوڑ آیا ہوا تھا مگر خالی ہاتھ لوٹتا۔ تین ہفتے گزر گئے۔ پیسے ختم ہو رہے تھے اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ وہاں مزید کیسے اپنے اخراجات پورے کرے گا۔ بے بس اور مایوس رہنے لگا۔ کرم دین صوبیدار فوج سے ریٹائر ہو کر نیا نیا اپنے گائوں لوٹا تھا۔ ایک دن ٹہلتا ٹہلتا منور کے گھر آ پہنچا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس کو جب چوہوں کے بیج کھا جانے کی کہانی کا پتا چلا تو وہ منور کو اس سے فصل بچانے کی ترکیب بتانا شروع ہوگیا۔ بات کاٹے ہوئے منور نے پوچھ لیا کہ کرم دین فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد کیا کر رہے ہیں تو صوبیدار نے بتایا کہ وہ اب ماڈرن طریقوں سے کھیتی باڑی کا آغاز کر چکا ہے۔ منور اُٹھا اور اندر سے شہر سے لائے ہوئے سارے بیجوں کی پوٹلیاں کرم دین کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔ یہ تمام بیج بہت اچھے ہیں۔ مجھ سے چوہوں کا بھگانا مشکل ہے۔ یہ آپ لے جائیں آپ ان کو بہتر استعمال کرسکیں گے۔ صوبیدار کرم دین نے تھیلیاں سنبھالتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور جیب سے کچھ رقم نکال کر ان کے دام پوچھنے لگا۔ منور نے کرم دین کے ہاتھوں کی مٹھی بند کرتے ہوئے بیجوں کی قیمت لینے سے انکار کردیا۔ دو دن منور نے کچھ نہیںکھایا تھا۔ وہ اپنی قسمت کو کوس رہا تھا۔ نڈھال اور مایوس بیٹھا آگے کیا کرنا چاہیے سوچ رہا تھا کہ صوبیدار کا ملازم ایک ٹوکری لے کر آ گیا۔ ٹوکری دیتے ہوئے اس نے بغل سے ایک زندہ مرغی بھی منور کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب صوبیدار نے ان کے لیے بھیجا ہے۔ ٹوکری میں گڑ، چائے، بارہ انڈے اور کچھ دالوں کے علاوہ تازہ مکھن بھی تھا۔ بہت دنوں سے منور نے اچھا کھانا نہیں کھایا تھا۔ پہلے تو اس نے سوچا مرغی کو حلال کرکے بھون لے، پھر دوسرے خیال سے اس نے دوسرے کمرے میں چھ انڈے رکھ کر مرغی کو بند کیا اور خود چھ انڈوں کا آملیٹ بنا کر کھا گیا۔ دن گزرنے لگے۔ انڈوں میں سے کچھ چوزے نکلے اور مرغی باقاعدہ انڈے بھی دینے لگی۔ ہر پانچ چھ دن کے بعد صوبیدار کرم دین خود یا ملازم کے ذریعے کچھ تازہ مکھن، کبھی ساگ، کبھی میٹھے چاول بھجوا دیتا۔ منور کھانے پینے کے خوف سے نکل کر سکون سے ناول لکھنے میں مصروف رہنے لگا۔ تین چار مہینے گزر گئے۔ منور اپنا ناول مکمل کر چکا تھا۔ وہ اسکرپٹ لے کر لاہور جانے کی تیاری کرنے لگا۔ منور کا گائوں ریلوے لائن کا آخری اسٹیشن تھا۔ برانچ لائن سے مین ریلوے لائن کے لیے راستے میں ایک جنکشن سے دوسری ٹرین پکڑنی تھی جو لاہور سے چھ گھنٹوں کا سفر تھا۔ صوبیدار کرم دین منور کو الوداع کرنے کے لیے ریلوے اسٹیشن تک آیا اور ٹرین میں سوار ہوتے وقت اسے ایک تھیلہ دیتے ہوئے کہنے لگا۔ اس میں آملیٹ اور پراٹھوں کے علاوہ تمہارے دیے ہوئے مکئی کے بیج کی اُبلی ہوئی چھلیاں ہیں۔ یہ تمہیں واقعی بڑی مزیدار لگیں گی۔ ریلوے کے اگلے جنکشن سے جہاں لاہور کے لیے دوسری ٹرین پکڑنی تھی پہنچنے پر معلوم ہوا کہ لاہور جانے والی ٹرین لیٹ ہے۔ منور کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس نے سوچا کہ کرم دین کا دیا کھانا چائے کے ساتھ کھایا جائے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کے ریسٹورنٹ میں چلاگیا اور چائے کا آرڈر دے کر اپنا تھیلا کھولنے لگا۔ سامنے والی میز پر ادھیڑ عمر کا ایک چڑچڑا آدمی ویٹر سے اچھا کھانا مہیا نہ کرنے پر ناراض ہو رہا تھا۔ منور نے مکئی کی اُبلی ہوئی چھلی نکالی اور کھانے لگا۔ وہ واقعی بہت مزیدار تھی۔ اس نے ویٹر کو بلا کر دو چھلیاں اس اجنبی جھگڑالو بندے کو پیش کرنے کے لیے کہا۔ اس شخص نے جب ان کو کھانا شروع کیا تو حیرت سے ویٹر کو پوچھا کہ اب یہ اتنا اچھا اسٹف کیسے لے آئے۔ ویٹر نے منور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب یہ سامنے والے صاحب نے بھجوائی ہیں۔ وہ اٹھ کر منور کی میز پر آ بیٹھا اور شکریہ ادا کرنے لگا۔ منور نے پراٹھے، آملیٹ اور مزید چھلیاں نکال کر میز پر رکھ دیں اور کھانے کی دعوت دی۔ اجنبی نے کہا! مجھے پراٹھے وغیرہ ہضم نہیں ہوتے لیکن یہ مکئی بڑی مزیدار اور میری پسندیدہ چیز ہے۔ باتوں باتوں میں مزید تعارف کے بعد اس کو منور کی ساری داستان کا پتا چل گیا۔ لاہور جانے والی ٹرین آ گئی اس اجنبی نے منور سے اس کے ناول کا اسکرپٹ مانگا۔ کہنے لگا وہ لاہور پہنچنے پر اسے واپس کردے گا۔ اسے لے کر وہ فسٹ کلاس کے ڈبے میں چلا گیا اور منور ساتھ والے تھرڈ کلاس ڈبے میں سوار ہوگیا۔ ساڑھے پانچ گھنٹے بعد جب ٹرین شاہدرہ اسٹیشن پر رُکی تو اجنبی منور کو اپنے ساتھ اپنے کمپارٹمنٹ میں لے گیا کہنے لگا۔ برخوردار میں ایک فلم پروڈیوسر ہوں۔ میرا اپنا اسٹوڈیو ہے۔ مجھے تمہارا ناول بہت پسند آیا ہے۔ میں اس پر ایک فلم بنائوں گا۔ تم مکالمے لکھو گے۔ کیا میں ابھی تمہیں پانچ ہزار روپے کا چیک دے دوں تو کافی ہوگا؟ اور ہاں اس کے بعد تمہیں ہر ماہ پانچ سوروپے تن خواہ ملا کرے گی۔ جی سر… جی سر! منور کو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ منور ایک مشہور رائٹر بن گیا۔ دس سال پہلے اس کا انتقال ہوا تھا لیکن اب بھی اس کی برسی باقاعدہ بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ جب بھی اس کے دوست اس کی شہرت، عزت اور ترقی سے متعلق پوچھتے تو وہ ہمیشہ کہتا۔ میں نے بڑی غربت کے دن دیکھے ہوئے ہیں۔ جب میں بالکل ناامید ہوچکا تھا، قلاش تھا، فاقوں تک نوبت آ گئی تھی تو میرے پاس آ جا کر وہ مکئی کے بیج ہی رہ گئے تھے۔ جو میں نے بلامعاوضہ کرم دین کو دیے تھے بس اسی وقت سے، اسی دن سے میری قسمت کا ٹرننگ پوائنٹ شروع ہوا۔ نوٹ: واقعات سچے ہیں، البتہ اصل نام تبدیل کردیےگئے ہیں۔ (کتاب ’’چھپن چھپائی‘‘ سے اقتباس)
یہ آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ منورکا باپ ایک دور دراز علاقے میں چوکیداری کرتا تھا۔ گائوں کے زمین دار نے باہر کھیتوں کے دوسرے کنارے پر اسے چار کنال زمین دی تھی جس میں اس نے دو کمروں کا گھر بنا لیا باقی زمین میں کچھ سبزیاں وغیرہ بیج کر گزارا کرتا تھا۔ چار میل دور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں منور نے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ وہ ہونہار اور محنتی تھا اس لیے اس کی فیس بھی معاف ہوگئی اور وہ یوں میٹرک تک پہنچ گیا۔ کالج میں پڑھائی جاری رکھنے کے لیے اس نے لاہور کا رخ کیا اور اسے اسلامیہ کالج میں داخلہ مل گیا۔ کئی ہفتوں کی بھاگ دوڑ کے بعد اسے ایک اخبار کے دفتر میں رات کی شفٹ میں پارٹ ٹائم نوکری بھی مل گئی۔ صبح صبح اُٹھ کر وہ اخبار بیچتا اور یوں اس تلخ شب و روز میں چار سال بیت گئے اور اب وہ بی اے پاس کر گیا تھا۔ اسے شروع ہی سے افسانے، کہانیاں اور ڈرامے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اخبار کے دفتر سے وابستہ ہونے کے ناطے اس کو خود لکھنے کی آرزو نے ایسا جکڑ کر رکھ دیا کہ اس نے اسی کو اپنا پروفیشن اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں، افسانے اور ڈرامے وغیرہ لکھ کر مختلف اداروں میں بھیج دیتا۔ ان دنوں اگر کوئی آرٹیکل منظور ہو جاتا تو معاوضہ بھی دس بیس روپوں سے زیادہ نہ ہوتا۔ کئی ماہ گزر گئے اس کے صرف دو ایک آرٹیکل ہی بک سکے۔ باقی کسی نے ہاں یا ناں میں کوئی رابطہ ہی نہ کیا۔ اب منور کا گزارہ مشکل ہوگیا۔ اگر وہ نوکری کرے تو لکھنے کا موڈ نہ بنتا اور اگر نوکری نہ کرے تو بھوکا مرتا۔ اس کے ماں باپ اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ اس نے سوچا کہ وہ کیوں نہ گائوں کے باہر اس چھوٹے سے کچے گھر میں جا کر یک سوئی سے کوئی بڑی، کوئی عمدہ چیز لکھے۔ ماں کے چاندی کے زیور بیچ کر اسے دو سو روپے مل گئے۔ سو روپے میں اس نے مکئی کے عمدہ بیج خرید لیے۔ اسے چھلی یعنی Corn بہت پسند تھی۔ اس نے سوچا اپنی چھوٹی سی زمین میں وہ یہ مکئی اور تھوڑی سی دوسری سبزیاں بیج لے گا۔ آٹا وغیرہ خرید کر وہ چھوٹی سی پونجی میں پانچ چھ ماہ تک گزر اوقات کرسکتا ہے۔ گائوں پہنچ کراس نے بہت محنت کی اور ایک ہفتے کے اندر ہی ایک کنال میں وہ قیمتی بیج بو دیے۔ بالٹیاں بھر بھر کر اس نے پانی دیا۔ دوسرے دن جب اٹھا تو دیکھا تمام بیج چوہے کھا گئے تھے اور زمین ویسی کی ویسی خالی تھی۔ ایک ہفتہ اور گزر گیا۔ اس نے ایک ناول لکھنے کا آغاز کر دیا۔ گائوں کے تندور سے روٹیاں لے آتا اور چٹنی وٹنی بنا کر لکھنے میں مصروف رہنے لگا۔ ہر پانچ دن کے بعد چار میل دور ڈاک خانے جا کر معلوم کرتا کہ شاید لاہور میں لکھے گئے آرٹیکلز کا کچھ معاوضہ ہی مل جائے جس کے لیے وہ اپنا نیا ایڈریس چھوڑ آیا ہوا تھا مگر خالی ہاتھ لوٹتا۔ تین ہفتے گزر گئے۔ پیسے ختم ہو رہے تھے اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ وہاں مزید کیسے اپنے اخراجات پورے کرے گا۔ بے بس اور مایوس رہنے لگا۔ کرم دین صوبیدار فوج سے ریٹائر ہو کر نیا نیا اپنے گائوں لوٹا تھا۔ ایک دن ٹہلتا ٹہلتا منور کے گھر آ پہنچا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس کو جب چوہوں کے بیج کھا جانے کی کہانی کا پتا چلا تو وہ منور کو اس سے فصل بچانے کی ترکیب بتانا شروع ہوگیا۔ بات کاٹے ہوئے منور نے پوچھ لیا کہ کرم دین فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد کیا کر رہے ہیں تو صوبیدار نے بتایا کہ وہ اب ماڈرن طریقوں سے کھیتی باڑی کا آغاز کر چکا ہے۔ منور اُٹھا اور اندر سے شہر سے لائے ہوئے سارے بیجوں کی پوٹلیاں کرم دین کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔ یہ تمام بیج بہت اچھے ہیں۔ مجھ سے چوہوں کا بھگانا مشکل ہے۔ یہ آپ لے جائیں آپ ان کو بہتر استعمال کرسکیں گے۔ صوبیدار کرم دین نے تھیلیاں سنبھالتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور جیب سے کچھ رقم نکال کر ان کے دام پوچھنے لگا۔ منور نے کرم دین کے ہاتھوں کی مٹھی بند کرتے ہوئے بیجوں کی قیمت لینے سے انکار کردیا۔ دو دن منور نے کچھ نہیںکھایا تھا۔ وہ اپنی قسمت کو کوس رہا تھا۔ نڈھال اور مایوس بیٹھا آگے کیا کرنا چاہیے سوچ رہا تھا کہ صوبیدار کا ملازم ایک ٹوکری لے کر آ گیا۔ ٹوکری دیتے ہوئے اس نے بغل سے ایک زندہ مرغی بھی منور کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب صوبیدار نے ان کے لیے بھیجا ہے۔ ٹوکری میں گڑ، چائے، بارہ انڈے اور کچھ دالوں کے علاوہ تازہ مکھن بھی تھا۔ بہت دنوں سے منور نے اچھا کھانا نہیں کھایا تھا۔ پہلے تو اس نے سوچا مرغی کو حلال کرکے بھون لے، پھر دوسرے خیال سے اس نے دوسرے کمرے میں چھ انڈے رکھ کر مرغی کو بند کیا اور خود چھ انڈوں کا آملیٹ بنا کر کھا گیا۔ دن گزرنے لگے۔ انڈوں میں سے کچھ چوزے نکلے اور مرغی باقاعدہ انڈے بھی دینے لگی۔ ہر پانچ چھ دن کے بعد صوبیدار کرم دین خود یا ملازم کے ذریعے کچھ تازہ مکھن، کبھی ساگ، کبھی میٹھے چاول بھجوا دیتا۔ منور کھانے پینے کے خوف سے نکل کر سکون سے ناول لکھنے میں مصروف رہنے لگا۔ تین چار مہینے گزر گئے۔ منور اپنا ناول مکمل کر چکا تھا۔ وہ اسکرپٹ لے کر لاہور جانے کی تیاری کرنے لگا۔ منور کا گائوں ریلوے لائن کا آخری اسٹیشن تھا۔ برانچ لائن سے مین ریلوے لائن کے لیے راستے میں ایک جنکشن سے دوسری ٹرین پکڑنی تھی جو لاہور سے چھ گھنٹوں کا سفر تھا۔ صوبیدار کرم دین منور کو الوداع کرنے کے لیے ریلوے اسٹیشن تک آیا اور ٹرین میں سوار ہوتے وقت اسے ایک تھیلہ دیتے ہوئے کہنے لگا۔ اس میں آملیٹ اور پراٹھوں کے علاوہ تمہارے دیے ہوئے مکئی کے بیج کی اُبلی ہوئی چھلیاں ہیں۔ یہ تمہیں واقعی بڑی مزیدار لگیں گی۔ ریلوے کے اگلے جنکشن سے جہاں لاہور کے لیے دوسری ٹرین پکڑنی تھی پہنچنے پر معلوم ہوا کہ لاہور جانے والی ٹرین لیٹ ہے۔ منور کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس نے سوچا کہ کرم دین کا دیا کھانا چائے کے ساتھ کھایا جائے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کے ریسٹورنٹ میں چلاگیا اور چائے کا آرڈر دے کر اپنا تھیلا کھولنے لگا۔ سامنے والی میز پر ادھیڑ عمر کا ایک چڑچڑا آدمی ویٹر سے اچھا کھانا مہیا نہ کرنے پر ناراض ہو رہا تھا۔ منور نے مکئی کی اُبلی ہوئی چھلی نکالی اور کھانے لگا۔ وہ واقعی بہت مزیدار تھی۔ اس نے ویٹر کو بلا کر دو چھلیاں اس اجنبی جھگڑالو بندے کو پیش کرنے کے لیے کہا۔ اس شخص نے جب ان کو کھانا شروع کیا تو حیرت سے ویٹر کو پوچھا کہ اب یہ اتنا اچھا اسٹف کیسے لے آئے۔ ویٹر نے منور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب یہ سامنے والے صاحب نے بھجوائی ہیں۔ وہ اٹھ کر منور کی میز پر آ بیٹھا اور شکریہ ادا کرنے لگا۔ منور نے پراٹھے، آملیٹ اور مزید چھلیاں نکال کر میز پر رکھ دیں اور کھانے کی دعوت دی۔ اجنبی نے کہا! مجھے پراٹھے وغیرہ ہضم نہیں ہوتے لیکن یہ مکئی بڑی مزیدار اور میری پسندیدہ چیز ہے۔ باتوں باتوں میں مزید تعارف کے بعد اس کو منور کی ساری داستان کا پتا چل گیا۔ لاہور جانے والی ٹرین آ گئی اس اجنبی نے منور سے اس کے ناول کا اسکرپٹ مانگا۔ کہنے لگا وہ لاہور پہنچنے پر اسے واپس کردے گا۔ اسے لے کر وہ فسٹ کلاس کے ڈبے میں چلا گیا اور منور ساتھ والے تھرڈ کلاس ڈبے میں سوار ہوگیا۔ ساڑھے پانچ گھنٹے بعد جب ٹرین شاہدرہ اسٹیشن پر رُکی تو اجنبی منور کو اپنے ساتھ اپنے کمپارٹمنٹ میں لے گیا کہنے لگا۔ برخوردار میں ایک فلم پروڈیوسر ہوں۔ میرا اپنا اسٹوڈیو ہے۔ مجھے تمہارا ناول بہت پسند آیا ہے۔ میں اس پر ایک فلم بنائوں گا۔ تم مکالمے لکھو گے۔ کیا میں ابھی تمہیں پانچ ہزار روپے کا چیک دے دوں تو کافی ہوگا؟ اور ہاں اس کے بعد تمہیں ہر ماہ پانچ سوروپے تن خواہ ملا کرے گی۔ جی سر… جی سر! منور کو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ منور ایک مشہور رائٹر بن گیا۔ دس سال پہلے اس کا انتقال ہوا تھا لیکن اب بھی اس کی برسی باقاعدہ بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ جب بھی اس کے دوست اس کی شہرت، عزت اور ترقی سے متعلق پوچھتے تو وہ ہمیشہ کہتا۔ میں نے بڑی غربت کے دن دیکھے ہوئے ہیں۔ جب میں بالکل ناامید ہوچکا تھا، قلاش تھا، فاقوں تک نوبت آ گئی تھی تو میرے پاس آ جا کر وہ مکئی کے بیج ہی رہ گئے تھے۔ جو میں نے بلامعاوضہ کرم دین کو دیے تھے بس اسی وقت سے، اسی دن سے میری قسمت کا ٹرننگ پوائنٹ شروع ہوا۔ نوٹ: واقعات سچے ہیں، البتہ اصل نام تبدیل کردیےگئے ہیں۔ (کتاب ’’چھپن چھپائی‘‘ سے اقتباس)
0 comments so far,add yours