غزوہ بدر(سن ۲ہجری) میں شکست کھانے کے بعد غم اورغصہ کے جذبات سے اہل مکہ
کی حالت قابل رحم تھی ابوسفیان نے اپنی قوم کی بربادی اورتباہی کی داستان
سنی تو وہ ہوش وحواس کھو بیٹھا ،اسے کبھی یہ وہم بھی نہ ہواتھاکہ ایسا بھی
ہوسکتا ہے چند بے سروسامان لوگ اس کی قوم کے رئیسوں کو خاک وخون میں تڑپا
دیں گے اور ان کی لاشوں کو گھسیٹ کر ایک گہرے کھڈے میں پھینک دیا جائے گا
اوران کے باقی ماندہ سرداروں کو جنگی قیدی بنالیاجائے گا۔ غم وغصہ سے بے
قابو ہوکر اس نے قسم کھائی جب تک وہ اپنے مقتولوں کا انتقام نہیں لے گا،اس
وقت تک گھی نہیں کھائے گا اورجنابت کا غسل نہیں کرے گا ۔
اپنی اس قسم کو پورا کرنے کے لئے وہ دوسو سواروں کا جتھہ ہمراہ لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو ا لیکن اس نے عام راستہ اختیار کرنے کے بجائے نجد کا لمبا راستہ اختیار کیا مدینہ کی ایک وادی قناة سے گزرتا ہوا یتیب نامی پہاڑ کے دامن میں پہنچ گیا یہ پہاڑ مدینہ طیبہ سے ایک برید یعنی بارہ میل کی مسافت پر واقع ہے ۔جب رات کی تاریکی پھیل گئی تویہ چھپتا چھپاتا بنی نضیر کے محلہ میں آیا اوران کے ایک ریئس حُیّ بن اخطب کے گھر پر آکر دستک دی۔ لیکن اس نے دروازہ کھولنے سے انکارکردیا پھروہ ایک دوسرے یہودی ریئس سلام بن مشکم کے دروازے پر آیا یہ سلام ،یہودیوں کے اس مالی فنڈ کا بھی نگران تھا جو انہوں نے اچانک قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اکٹھا کررکھا تھا۔ ابوسفیان نے اس سے ملاقات کا اذن طلب کیا اس نے بڑی خوشی سے اسے خوش آمدید کہا،اسے اپنے ہاں بٹھایا ۔اس کی پُر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا شراب وکباب سے اس کی تواضع کی ،دیر تک وہ بیٹھے رہے اورسرگوشیاں کرتے رہے ،اس نے ابوسفیان کو مسلمانوں کے خفیہ حالات اوران کے سربستہ رازوں سے آگاہ کیا۔ یقینا اسلامی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے ہی انہوںنے اپنی عقل وفہم کی حدتک خوب منصوبہ بندی کی ہوگی۔
کونستانی جیور جیووزیر خارجہ رومانیہ نے اپنی سیرت کی کتاب نظرة جدید میں اس موضوع پر مزید روشنی ڈالی ہے”ابو سفیان نے سلام سے رخصت ہونے سے پہلے اسے کہا کہ میں یہاں اس لئے آیا ہوںکہ تم نے ہم سے وعدہ کیاتھا کہ جب ہم مسلمانوں پر حملہ کریں گے توتم ہمارا ساتھ دوگے۔ سلام نے کہا کہ ہم اپنے عہد پر آج بھی پختگی سے قائم ہیں لیکن ہمیں یہ توقع نہ تھی کہ تم اتنی جلدی سے حملہ کروگے ،آج ہم تیار نہیں ہیں تم ہمیں کچھ وقت مہلت دوتاکہ ہم پوری طرح تیار ہوجائیں گویا ابو سفیان مدینہ پر چڑھائی کرنے کی نیت سے آیا تھالیکن یہودیوں نے ساتھ نہ دیا اس لئے اسے ناکام واپس لوٹنا پڑا“
اپنی اس قسم کو پورا کرنے کے لئے وہ دوسو سواروں کا جتھہ ہمراہ لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو ا لیکن اس نے عام راستہ اختیار کرنے کے بجائے نجد کا لمبا راستہ اختیار کیا مدینہ کی ایک وادی قناة سے گزرتا ہوا یتیب نامی پہاڑ کے دامن میں پہنچ گیا یہ پہاڑ مدینہ طیبہ سے ایک برید یعنی بارہ میل کی مسافت پر واقع ہے ۔جب رات کی تاریکی پھیل گئی تویہ چھپتا چھپاتا بنی نضیر کے محلہ میں آیا اوران کے ایک ریئس حُیّ بن اخطب کے گھر پر آکر دستک دی۔ لیکن اس نے دروازہ کھولنے سے انکارکردیا پھروہ ایک دوسرے یہودی ریئس سلام بن مشکم کے دروازے پر آیا یہ سلام ،یہودیوں کے اس مالی فنڈ کا بھی نگران تھا جو انہوں نے اچانک قومی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اکٹھا کررکھا تھا۔ ابوسفیان نے اس سے ملاقات کا اذن طلب کیا اس نے بڑی خوشی سے اسے خوش آمدید کہا،اسے اپنے ہاں بٹھایا ۔اس کی پُر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا شراب وکباب سے اس کی تواضع کی ،دیر تک وہ بیٹھے رہے اورسرگوشیاں کرتے رہے ،اس نے ابوسفیان کو مسلمانوں کے خفیہ حالات اوران کے سربستہ رازوں سے آگاہ کیا۔ یقینا اسلامی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے ہی انہوںنے اپنی عقل وفہم کی حدتک خوب منصوبہ بندی کی ہوگی۔
کونستانی جیور جیووزیر خارجہ رومانیہ نے اپنی سیرت کی کتاب نظرة جدید میں اس موضوع پر مزید روشنی ڈالی ہے”ابو سفیان نے سلام سے رخصت ہونے سے پہلے اسے کہا کہ میں یہاں اس لئے آیا ہوںکہ تم نے ہم سے وعدہ کیاتھا کہ جب ہم مسلمانوں پر حملہ کریں گے توتم ہمارا ساتھ دوگے۔ سلام نے کہا کہ ہم اپنے عہد پر آج بھی پختگی سے قائم ہیں لیکن ہمیں یہ توقع نہ تھی کہ تم اتنی جلدی سے حملہ کروگے ،آج ہم تیار نہیں ہیں تم ہمیں کچھ وقت مہلت دوتاکہ ہم پوری طرح تیار ہوجائیں گویا ابو سفیان مدینہ پر چڑھائی کرنے کی نیت سے آیا تھالیکن یہودیوں نے ساتھ نہ دیا اس لئے اسے ناکام واپس لوٹنا پڑا“
مدینہ کے یہودیوں نے جب فوری مہم جوئی کے منصوبے پر ابوسفیان کی حوصلہ
افزائی نہ کی تو نصف شب کے بعد ابو سفیان وہاں سے اٹھا اوراپنے کیمپ میں
واپس آگیا اپنے سپاہیوں کو لے کر وہ عُریض پہنچا ،یہاں مسلمانوں کا ایک
نخلستان تھا۔ جہاں کھجور کے چھوٹے پودوں کا ایک بڑا ذخیرہ تھا انہوں نے اسے
نذر آتش کیا وہاں ایک انصاری معبد بن عمرو اور ان کے ایک ساتھی کو تنہا
پایا اورانہیں شہید کردیا ان دوکو شہید کرکے ابوسفیان نے یہ سمجھا کہ اس نے
اپنی قسم پوری کردی ہے اوراب وہ ان پابندیوں سے آزاد ہوگیا ہے جو اس نے
اپنے اوپر عائد کی تھیں چنانچہ اس نے مکہ واپس جانے کا قصد کیا دراصل اس کو
یہ خوف تھا کہ اگر حضور علیہ الصلوٰة والسلام کو اس کی کارستانی کا پتہ چل
گیا تو پھر اس کی اوراس کے ساتھیوں کی خیر نہیں۔ اس لئے اس نے مناسب سمجھا
کہ حضور کو اطلاع ملنے سے پہلے وہ اپنے ساتھیوں سمیت یہاں سے فرار ہوجائے
چنانچہ واپسی کا سفر انہوں نے تیز رفتاری سے طے کرنا شروع کیا۔
نبی مکر م صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو حضور دوسو مہاجرین اورانصار کو لے کر ابوسفیان کے تعاقب میں نکلے ،مدینہ طیبہ میں بشیر بن عبدالمنذر کو اپنا نائب مقرر فرمایا اوربڑھتے ہوئے قرقرة الکدر تک جاپہنچے ابو سفیان اوراس کے لشکریوں کا یہ حال تھا کہ پاﺅں سرپر رکھ کر بھاگے جارہے تھے ۔انہیں یہ خوف کھائے جارہا تھا کہ اسلام کے عقاب ابھی آپہنچیں گے اور انہیں چوزوں کی طرح اپنے فولادی پنجوں میں دبوچ لیں گے،اپنے بھاگنے کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے انہوںنے اپنا سامان رسد جو ستو سے بھی بھری ہوئی بوریوں پر مشتمل تھا ۔اس کو راستہ میں پھینکنا شروع کردیا تاکہ اس بوجھ سے ان کی جان چھوٹے اوروہ تیزی سے بھاگ سکیں۔ مسلمانوں کو ان کا تعاقب کرتے ہوئے ستو کی کثیر تعداد بوریاں راستہ میں گری پڑی ملیں وہ انہیں اٹھا اٹھا کر اپنے اونٹوں پر لادتے گئے کیونکہ ستو کی بہت سی بوریاں انہیں بطور غنیمت ملی تھیں اورستو کو عرب میں ”سویق“ کہتے ہیں اس لئے یہ غزوہ بھی اسی نام سے مشہور ہوگیا۔
حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا اس سفر سے مقصد دشمن کو بھگانا اورخوفزدہ کرنا تھا۔ جب حضور کو یقین ہوگیا کہ کفار اتنی دور چلے گئے ہیں کہ ان کی واپسی کا امکان نہیں رہا تورحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید تعاقب ضروری نہ سمجھا اوراپنے جاں نثار ساتھیوں کو واپسی کاحکم دیا۔ کیونکہ دشمن بھاگ گیا تھا اورجنگ کی نوبت نہیں آئی تھی اس لئے بعض صحابہ کویہ گما ن ہوا کہ شائد یہ سفر عنداللہ جہاد شمار نہ ہوا نہوںنے عرض کی یارسول اللہ !”کیا حضور امید کرتے ہیں کہ ہمارا یہ سفرجہاد شمار ہوگا۔ سرکاردوعالم نے فرمایا :بیشک۔“(ضیاءالنبی )
نبی مکر م صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو حضور دوسو مہاجرین اورانصار کو لے کر ابوسفیان کے تعاقب میں نکلے ،مدینہ طیبہ میں بشیر بن عبدالمنذر کو اپنا نائب مقرر فرمایا اوربڑھتے ہوئے قرقرة الکدر تک جاپہنچے ابو سفیان اوراس کے لشکریوں کا یہ حال تھا کہ پاﺅں سرپر رکھ کر بھاگے جارہے تھے ۔انہیں یہ خوف کھائے جارہا تھا کہ اسلام کے عقاب ابھی آپہنچیں گے اور انہیں چوزوں کی طرح اپنے فولادی پنجوں میں دبوچ لیں گے،اپنے بھاگنے کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لیے انہوںنے اپنا سامان رسد جو ستو سے بھی بھری ہوئی بوریوں پر مشتمل تھا ۔اس کو راستہ میں پھینکنا شروع کردیا تاکہ اس بوجھ سے ان کی جان چھوٹے اوروہ تیزی سے بھاگ سکیں۔ مسلمانوں کو ان کا تعاقب کرتے ہوئے ستو کی کثیر تعداد بوریاں راستہ میں گری پڑی ملیں وہ انہیں اٹھا اٹھا کر اپنے اونٹوں پر لادتے گئے کیونکہ ستو کی بہت سی بوریاں انہیں بطور غنیمت ملی تھیں اورستو کو عرب میں ”سویق“ کہتے ہیں اس لئے یہ غزوہ بھی اسی نام سے مشہور ہوگیا۔
حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا اس سفر سے مقصد دشمن کو بھگانا اورخوفزدہ کرنا تھا۔ جب حضور کو یقین ہوگیا کہ کفار اتنی دور چلے گئے ہیں کہ ان کی واپسی کا امکان نہیں رہا تورحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید تعاقب ضروری نہ سمجھا اوراپنے جاں نثار ساتھیوں کو واپسی کاحکم دیا۔ کیونکہ دشمن بھاگ گیا تھا اورجنگ کی نوبت نہیں آئی تھی اس لئے بعض صحابہ کویہ گما ن ہوا کہ شائد یہ سفر عنداللہ جہاد شمار نہ ہوا نہوںنے عرض کی یارسول اللہ !”کیا حضور امید کرتے ہیں کہ ہمارا یہ سفرجہاد شمار ہوگا۔ سرکاردوعالم نے فرمایا :بیشک۔“(ضیاءالنبی )
0 comments so far,add yours