اَکھیں سُرخ مُنہے تے زردی ہر وَلّوں دِل آہیں ہُو
مُنہا مُہاڑ خوشبوئی والا پُہتا ونج کدائیں ہُو
عِشق مُشک نہ چُھپے رہندے ظاہر تھِین اتھائیں ہُو
نام فقیر تنہاں دا باہو جِنھ لامکانی جائیں ہُو
ترجمہ و تشریح
پہلے مِصرع میں عاشق کی ظاہری کیفیت کا نقشہ کھینچا ہے اور اس کے لئے تاثراتی اسلوب اِختیار کیا ہے۔۔"آنکھیں سُرخ ہیں"جذب و مستی کی علامت ہے،منہ پر زردی جِسمانی کمزوری کی غمازی کرتی ہے اور فرمایا ہے۔
ہر ولوں دِل آہیں ہُو
یعنی ہر طرف دیکھتا ہُوں کہ شاید کوئی راہ نِکل آئے مگر جب مقصود کو پانے کی صورت نہیں نِکلتی تو دِل سے آہیں نِکلتی ہیں،،،
کِسی کو عِشق ہو اور وہ چھپا رہ جائے یہ نہیں ہو سکتا اس کی مِثال خوشبو یا کِسی مُشک کی سمت کی سی ہے جو متعین نہیں ہوتی یعنی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے اور کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے،،سُلطان صاحب فرماتے ہیں کہ عِشق اور مُشک جہاں بھی ہو ظاہر ہو کر رہتا ہے
ظاہر تِھیں اتھائیں ہُو
فقیر وہ ہو تا ہے جِس کا مقصود لامکان ہو تا ہے لامکان سے مُراد ذات سے عِشق ہے یعنی عاشق صِرف اللہ کی صِفات کی معرفت اور اِن سے تمتع کا خواہشمند نہیں ہوتا بلکہ وہ اِسی کی خاطر اِسی کی ذات سے محبت کرتا ہے اب ذات کے ساتھ عِشق اور اس کی معرفت ایک ایسی منزل ہے جِس کا عام آدمی تصور ہی کر سکتا ہے اور اس کے اِظہار کے لئے اُسے لفظ بھی نہیں مِلتے،،،بس وہ لامکاں ہے
حضرت سُلطان صاحب کے چار مِصرعوں کی نظم میں ایک بہت بڑا موضوع سما جاتا ہے اِس موقع پر انہوں نے عِشق کے موضوع کو لیا ہے پہلے مِصرع میں ایک تاثراتی اسلوب والے مصور کی طرح اس کی شخصی تصویر اُجاگر کی ہے دوسرے مِصرع میں شخص کے گِرد اس کا حلقہ ء اثر ظاہر کیا ہے اس کے لئے خوشبو کا اِستعارہ اِستعمال کیا ہے۔۔
خوشبو سونگھنے والی حِس سے محسوس کی جاتی ہے جو بعض صورتوں میں ضائع ہو چُکی ہوتی ہے پِھر کِسی میں سونگھنے کی اِستعداد کم ہوتی ہے اور کِسی میں زیادہ،،،ایک رُوحانی ہستی کو بھی لوگ اپنے ماحول میں اِسی طرح محسوس کرتے ہیں۔۔
اگر اِن میں خود رُوحانی حِس ہو تو جان لیتے ہیں اور اس کے حلقہء اثر کی وُسعت کا بھی انہیں اندازہ ہو جاتا ہے۔۔
تیسرے مِصرع میں فرمایا کہ ایک عاشق ولی چُھپا نہیں رہ سکتا جاننے والے اسے ضرُور جان لیتے ہیں،پِھر وہی بات کہ یہ حِس پر مُنحصر ہوتا ہے کہ وہ جان لے کہ اِس ماحول میں کوئی مقدس و معطر ہستی ضرور موجود ہے۔۔۔
آخری مِصرع میں ہر قِسم کے شعری اسلوب کی عمدگی کو ترک کر کے برجستہ انداز میں سادگی مگر جوش کیساتھ حقیقت واضح کی ہے کہ یہاں تو عاشق فقیر کی یہ کیفیت ہوتی ہے مگر اسکے رُوحانی وجدان کی ساری قُوتیں لامکاں میں ذات پر مُرتکز ہوتی ہیں
0 comments so far,add yours