باتیں ہی باتیں
کسی شخص کے پاس ایک گدھا تھا۔ ایک دن وہ اسے بیچنے چلا گدھے کو لے کر گھر سے روانہ ہوا تو اس کا بیٹھا بھی ساتھ ہو لیا۔ وہ دونوں گدھے کو لئے چلے جا رہے تھے۔ کہ ایک کنویں پر عورتیں پانی پھر رہی تھیں باپ بیٹے کو گدھے کے ساتھ پیدل چلتے دیکھا تو ہنسنے لگیں آپس میں یہ باتیں کرنے لگیں کہ یہ دونوں کتنے احمق ہیں کہ سواری پاس ہے اور پیدل چلے جا رہے ہیں۔
یہ بات باپ نے سن لی اور اپنے بیٹے سے کہا کہ تو بیٹھ جا گدھے پر میں پیدل چلتا ہوں۔ اور بیٹا گدھے پر سوار ہو گیا۔ ابھی وہ تھوڑی دور گئے تھے کہ ان کو کچھ دانشور ملے۔ جب ان پر نظر پڑی تو ایک نے کہا کہ دیکھو جی! کیسا زمانہ آگیا ہے۔ جوان بیٹا سواری پر بیٹھا ہے اور بوڑھا باپ پیدل چل رہا ہے۔ یہ بات بیٹے نے سنی تو گدھے سے نیچے اتر آیا اور اصرار کرکے باپ کو اس پر سوار کر دیا اور چلتے گئے۔ ابھی وہ تھوڑی دور گئے تھے کہ انہیں جوان لڑکیوں کی ایک ٹولی ملی ان میں سے ایک کہنے لگی، دیکھو! یہ بوڑھا سنگدل ہے۔ خود تو سواری پر بیٹھا ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے۔
یہ سنا تو باپ نے بیٹے کو گدھے پر سوار کر لیا اور ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ راہ چلتے ان کو کچھ آدمی ملے۔ ایک شخص نے بوڑھے سے کہا۔
’’میاں! کیا یہ گدھا تمہارا ہی ہے۔ ہمیں تو یقین نہیں آرہا ہے وہ مر رہا ہے اور تم کو پروا نہیں ہے دو آدمی ایسے دبلے پتلے گدھے پر سوار ہوں ہم نے آج ہی دیکھا ہے۔‘‘
یہ سنا تو باپ بیٹا دونوں پیدل چلنے لگے۔ باپ نے کہا، جتنے منہ اتنی باتیں۔ ہر ایک کو دنیا میں کوئی خوش نہیں رکھ سکتا۔
کسی شخص کے پاس ایک گدھا تھا۔ ایک دن وہ اسے بیچنے چلا گدھے کو لے کر گھر سے روانہ ہوا تو اس کا بیٹھا بھی ساتھ ہو لیا۔ وہ دونوں گدھے کو لئے چلے جا رہے تھے۔ کہ ایک کنویں پر عورتیں پانی پھر رہی تھیں باپ بیٹے کو گدھے کے ساتھ پیدل چلتے دیکھا تو ہنسنے لگیں آپس میں یہ باتیں کرنے لگیں کہ یہ دونوں کتنے احمق ہیں کہ سواری پاس ہے اور پیدل چلے جا رہے ہیں۔
یہ بات باپ نے سن لی اور اپنے بیٹے سے کہا کہ تو بیٹھ جا گدھے پر میں پیدل چلتا ہوں۔ اور بیٹا گدھے پر سوار ہو گیا۔ ابھی وہ تھوڑی دور گئے تھے کہ ان کو کچھ دانشور ملے۔ جب ان پر نظر پڑی تو ایک نے کہا کہ دیکھو جی! کیسا زمانہ آگیا ہے۔ جوان بیٹا سواری پر بیٹھا ہے اور بوڑھا باپ پیدل چل رہا ہے۔ یہ بات بیٹے نے سنی تو گدھے سے نیچے اتر آیا اور اصرار کرکے باپ کو اس پر سوار کر دیا اور چلتے گئے۔ ابھی وہ تھوڑی دور گئے تھے کہ انہیں جوان لڑکیوں کی ایک ٹولی ملی ان میں سے ایک کہنے لگی، دیکھو! یہ بوڑھا سنگدل ہے۔ خود تو سواری پر بیٹھا ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے۔
یہ سنا تو باپ نے بیٹے کو گدھے پر سوار کر لیا اور ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ راہ چلتے ان کو کچھ آدمی ملے۔ ایک شخص نے بوڑھے سے کہا۔
’’میاں! کیا یہ گدھا تمہارا ہی ہے۔ ہمیں تو یقین نہیں آرہا ہے وہ مر رہا ہے اور تم کو پروا نہیں ہے دو آدمی ایسے دبلے پتلے گدھے پر سوار ہوں ہم نے آج ہی دیکھا ہے۔‘‘
یہ سنا تو باپ بیٹا دونوں پیدل چلنے لگے۔ باپ نے کہا، جتنے منہ اتنی باتیں۔ ہر ایک کو دنیا میں کوئی خوش نہیں رکھ سکتا۔
0 comments so far,add yours