اندر وِچ نماز اساڈی ہَکسے جا نِتیوے ہُو
نال قیام رَکوع سَجودے کر تکرار پَڑھیوے ہُو
ایہہ دِل ہِجر فِراقوں سَڑیا ایہہ دَم مرے نہ جیوے ہُو
راہ محمد والا باہُو جَیں وِچ رب لَبھیوے ہُو
ترجمہ و تشریح
صوفیاء کرام کی زُبان شاعری سے مِلتی جُلتی ہے۔صوفیاء کرام کِسی ظاہری شے کا نام لیتے ہیں اور اِس سے باطنی حقیقت مُراد ہوتی ہے۔نماز کا مطلوب و مقصود توجہ اِلی اللہ ہے۔سلطان العارفین اِسی اسلوب میں بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نے خالص اِرادہ اور نیت کے ساتھ اللہ کی طرف توجہ منعطف کر لی ہے ،،یہ توجہ یکسُو ہو جانے کے بعد ہی قائم ہوتی ہے۔۔۔
اِسی طرح اِسے ذِکر کے ذریعہ ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔جِس طرح ظاہری نماز کے آداب قیام رَکُوع اور سجود وغیرہ ہیں اِسی طرح اِس توجہ باطنی کے بھی کچھ آداب ہیں جیسے عاجزی توکل اور ذِکرِ کثیر اور اِن آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے فقیر قُرب کے مراحل طے کرتا ہے اور توجہ کو ہمیشہ اللہ پر مرکُوز رکھتا ہے۔۔۔
اللہ کا قُرب و وِصال پانے کا شوق اِس طرح ہوتا ہے کہ جب تک فقیر کو وِصال کی کیفیت حاصل نہیں ہوتی اُس وقت تک وہ عِشق و محبت کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔کِسی لمحے اُسے چین نہیں آتا گویا وہ زِندوں میں ہوتا ہے نہ مُردوں میں۔۔۔
آگے فرمایا "سچا راہ محمد والا جِس وِچ رب لَبھیوے ہُو"۔۔۔یہ سچا راستہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کا ہے۔شریعت پر عمل کرنے سے ہی فقیر رب کو پا سکتا ہے۔یہ شریعت ہی ہے جِس کی پیروی فقیر کو اگلی سظح یعنی طریقت پر لے جاتی ہے اور پِھر وہاں سے آگے حقیقت و معرفت تک رَسائی کی صورت پیدا ہوتی ہے۔۔
شعر و نثر میں سُلطان العارفین کے شریعت کے بارے میں ایسے ہی دو ٹوک بیانات ہیں جِن کی بِنا پر تصوف پہ سرسری نظر رکھنے والے کچھ دانشور قِسم کے حضرات اِن کی تعلیمات سے بُغض رکھتے ہیں اور اِن کے قلم سے ایسے قلمات نِکلتے ہیں جِن سے وہ تصوف میں سُلطان صاحب کا پایہ کم دِکھانا چاہتے ہیں ایسے بے شرع سِریّت پسند تصوف کو سمجھے ہی نہیں۔۔۔۔۔
0 comments so far,add yours