ادھی لعنت دُنیا تائیں ساری دُنیا داراں ہُو
راہ صاحب دے خرچ نہ کیتی لین غضب دیاں ماراں ہُو
پیواں کولوں پُتر کوہاوے بھٹھ دُنیا مکاراں ہُو
دُنیا ترک کیتی جِن باہُو لیسن باغ بہاراں ہُو

ترجمہ و تشریح
دُنیا سے مال و دولت مُراد ہے۔ پچاس فیصد بُرائی تو خود دولت کے اندر موجود ہے یعنی اِس کی کمائی،حِساب کتاب اور خرچ وغیرہ میں اِنسانوں کی بہترین قوتیں صرف ہو جاتی ہیں۔بعض اوقات عالی دِماغ اور باصلاحیت لوگ اِس کے لالچ میں آ کر سب کچھ گنوا بیٹھتے ہیں جیسے فیض نے کہا ہے؛؛؛؛

پیوندِ رہِ کوچہء زر چشمِ غزالاں
پابوسِ ہوس افسرِ شمشاد قداں ہے

اِسی طرح سے دولت اِنسان کو غلط اِستعمال پر بھی اُکساتی ہے مگر یہ بُرائی اچھائی میں بدل سکتی ہے اگر اِس کا اِستعمال عدل کیساتھ ہو یعنی بَر محل اور صحیح ہو۔۔اِسی لئے سُلطان صاحب اِس کے آدھے حِصے کو ہی ملعون قرار دیتے ہیں۔۔
رہ گئے وہ لوگ جِن کے دِلوں میں مال و زر کی محبت گھر کر چکی ہے،ان سے اچھائی کی کوئی امید نہیں کیونکہ انھوں نے اِس کے پچاس فیصد حِصے کو بھی جِس سے کچھ فائدہ کی توقع تھی بُرائی میں بدل ڈالا۔۔اپنی صلاحیتیں اِس کے حَصول کی نذر کر دیں اور پِھر لعو و لعب اور بندوں کے اِستحصال کیلئے اِسے اِستعمال کیا،وہ ساری لعنت کے مُستحق ٹھہرے۔۔
چونکہ سارا دارو مدار موقع و محل کیمطابق دولت کے اِستعمال پر تھا اِس لئے اگر کِسی نے اللہ کی راہ میں دولت خرچ نہ کی تو ظاہر ہے کہ اِن پر اللہ کے غضب کی مار پڑے گی،دولت کی طمع ایسی بُری چیز ہے کہ کہ اِس میں فِطری اِنسانی رِشتے بھی کَٹ جاتے ہیں۔۔باپ بیٹے بھائی اور اعزا و اقربا دولت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں،ایک دوسرے کو مرنے مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔۔
یہ روزمرہ کے حقائق ہیں۔چنانچہ درویشوں کے نزدیک فقر میں ترکِ دُنیا ایک اہم قدر ٹھہری یعنی دُنیا میں رہ کر بھی دُنیا سے کوئی غَرض نہ رکھو۔۔دُنیا کے کام بےشک کرو مگر نظر اعلٰی اِِنسانی قدروں پر رہے۔دُنیا کماؤ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو یعنی خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کِھلاؤ مگر اِسکی طمع اور محبت سے مغلُوب ہو کر مال و زر کا ذخیرہ جمع کرنے میں نہ لگ جاؤ۔۔۔۔
دُنیا میں آرام و سَکون اِسی رویّہ میں ہے اور آخرت میں جنت کا اِستحقاق بھی دُنیا کے اِسی رویّہ پر منحصر ہے۔۔۔

دُنیا ترک کیتی جِن باہُو لیسن باغ بہاراں ہُو

سُلطان صاحب نے اِس بیت میں ایک دینی نکتہ اِس طرح سادہ پنجابی زُبان میں ڈھالا ہے کہ شعریت بھی پیدا ہو گئی ہے اور اِبلاغ کا حق بھی ادا ہو گیا ہے یعنی "اِن کو درد ناک عذاب ہو گا" کو یوں ادا کیا ہے :: :لین غضب دیاں ماراں ہُو:::
اِسی طرح ""جنت میں رہیں گے جِن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی""" کا مفہوم تھوڑے اور جامع الفاظ میں ادا کر دیا ہے :::::: لیسن باغ بہاراں ہُو:::::::

0 comments so far,add yours