ایک شخص آیا، دوست کا دروازہ کھٹکھٹایا، اس کے دوست نے کہا "توکون ہے؟"
اسنے کہا "میں"
دوست نے کہا "جا ملاقات کا وقت نہیں ہے، ایسے خوان پر کچے کی جگہ نہیں ہے
کچے کو سوائے ہجر اور جدائی کی آگ کے کون پختہ بنا سکتا ہے؟ جبکہ تیری
خودی ابھی تک تجھ سے نہیں گئی، تجھے دہکتی آگ میں جلا دینا چاہئے"
وہ
"میں" کہنے والا بے چارہ چلا گیا، دو سال تک سفر میں دوست کے فراق میں
چنگاریوں میں جلتا رہا، وہ جلا ہوا پختہ ہو گیا، پھر لوٹا اور دوست کے
دروازے پر آیا، نہایت خوف کے ساتھ دروازہ کٹھکھٹایا،
تاکہ منہ سے کوئی بے ادبی نہ ہو جائے۔
دوست نے کہا "کون ہے؟"
اس نے کہا "اے دوست دروازے پر بھی تو ہی ہے"
دوست نے کہا 'اب "تو" "میں" ہے اے "میں" اندر آجا، اس گھر میں دو "میں" کی
گنجائش نہیں جب سب ایک ہو جائیں دوئی نہیں رہتی، وہاں "میں" اور "تو" ختم
ہو جاتا ہے،
سوئی میں دو دھاگے نہیں ہوتے، جب تو ایک بن گیا سوئی میں آجا'
'دھاگے اور سوئی میں مناسبت نہیں، سوئی کا نکوا، اونٹ کے مناسب نہیں،
اونٹ کا وجود باریک نہیں ہو سکتا، عمل اور ریاضتوں کی کینچی کے بغیر،
اے فلاں، اس کام کے لئے خدا کا ہاتھ چاہئے، کیونکہ وہ ناممکن پر "کن فکاں" ہوتا ہے۔'
مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ - دفتر اول
Back To Top
0 comments so far,add yours