حسن مجبورِ جفا ہے شایدیہ بھی اِک طرزِ ادا ہے شایدایک غم ناک سی آتی ہے صداکوئی دل ٹوٹ رہا ہے شایدخود فراموش ہوا جاتا ہوںتو مجھے بھول گیا ہے شایدان حسیں چاند ستاروں میں کہیںتیرا نقشِ کفِ پا ہے شایدایک دنیا سے ہوئے بیگانےتجھ سے ملنے کا صلا ہے شایدہر گھڑی اشک فشاں ہیں آنکھیںیہی انجامِ وفا ہے شایدان لبوں پر یہ تبسّم کی ضیاشوخیِ بخت رسا ہے شاید(صوفی تبسّم)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments so far,add yours