علامہ اقبال رح فرماتے ہیں:
” مسلمانوں میں اصلاح تمدن کا سوال دراصل ایک مذہبی سوال ہے۔کیونکہ اسلامی
تمدن اصل میں مذہب اسلام کی عملی صورت کا نام ہے اور ہماری تمدنی زندگی کا
کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو اصول مذہب سے جدا ہوسکتا ہو میرا یہ منصب نہیں
کہ میں اس اہم مسئلہ پر مذہبی اعتبار سے گفتگو کروں تاہم میں اس قدر کہنے
سے باز نہیں رہ سکتا کہ حالات زندگی میں ایک عظیم شان انقلاب آجانے کی وجہ
سے بعض ایسی ضروریات پیدا ہوگئی ہیں کہ فقہاء کے استدلالات جن کے مجموعے کو
عام طور پر شریعت اسلامی کہا جاتا ہے ایک نظرثانی کے محتاج ہیں میرا یہ
عندیہ نہیں ہے کہ مسلمات مذہب میں کوئی اندرونی نقص ہے،جس کے سبب سے وہ
ہماری موجودہ تمدنی ضروریات پر حاوی نہیں ہیں بلکہ میرا مدعا یہ ہے،کہ قرآن
شریف اور احادیث کے وسیع اصول کی بنیاد پر جو استدلال فقہاء نے وقتاً
فوقتاً کیے ہیں،ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو خاص خاص زمانوں کے لئے واقعی
مناسب اور قابل عمل تھے، مگر حال کی ضروریات پر کافی طور پر حاوی نہیں ہیں
اگر موجودہ حالات زندگی پرغوروفکر کیا جائے تو جس طرح اس وقت ہمیں تائید
اصول مذہب کے لئے ایک جدید علم کلام کی ضرورت ہے اسی طرح قانون اسلامی کی
تفسیر کے لئے ایک بہت بڑے فقیہ کی ضرورت ہے جس کے قوای عقلیہ اور متخیلہ کا
پیمانہ اس قدر وسیع ہو کہ مسلمات کی بنا پر قانون اسلامی کو نہ صرف ایک
جدید پیرائے میں مرتب ومنظم کرسکے بلکہ تخیل کے زور سے اصول کو ایسی وسعت
دے سکے جو حال کے تمدنی تقاضوں کی تمام ممکنہ صورتوں پرحاوی ہو جہاں تک
مجھے معلوم ہے ،اسلامی دنیامیں اب تک کوئی ایسا عالی دماغ مقنن پیدا نہیں
ہوا اور اگر اس کام کی اہمیت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ایک
سے زیادہ دماغوں کا ہے اور اس کی تکمیل کے لئے کم ازکم ایک صدی کی ضرورت
ہے۔ “
” مسلمانوں میں اصلاح تمدن کا سوال دراصل ایک مذہبی سوال ہے۔کیونکہ اسلامی تمدن اصل میں مذہب اسلام کی عملی صورت کا نام ہے اور ہماری تمدنی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو اصول مذہب سے جدا ہوسکتا ہو میرا یہ منصب نہیں کہ میں اس اہم مسئلہ پر مذہبی اعتبار سے گفتگو کروں تاہم میں اس قدر کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ حالات زندگی میں ایک عظیم شان انقلاب آجانے کی وجہ سے بعض ایسی ضروریات پیدا ہوگئی ہیں کہ فقہاء کے استدلالات جن کے مجموعے کو عام طور پر شریعت اسلامی کہا جاتا ہے ایک نظرثانی کے محتاج ہیں میرا یہ عندیہ نہیں ہے کہ مسلمات مذہب میں کوئی اندرونی نقص ہے،جس کے سبب سے وہ ہماری موجودہ تمدنی ضروریات پر حاوی نہیں ہیں بلکہ میرا مدعا یہ ہے،کہ قرآن شریف اور احادیث کے وسیع اصول کی بنیاد پر جو استدلال فقہاء نے وقتاً فوقتاً کیے ہیں،ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو خاص خاص زمانوں کے لئے واقعی مناسب اور قابل عمل تھے، مگر حال کی ضروریات پر کافی طور پر حاوی نہیں ہیں اگر موجودہ حالات زندگی پرغوروفکر کیا جائے تو جس طرح اس وقت ہمیں تائید اصول مذہب کے لئے ایک جدید علم کلام کی ضرورت ہے اسی طرح قانون اسلامی کی تفسیر کے لئے ایک بہت بڑے فقیہ کی ضرورت ہے جس کے قوای عقلیہ اور متخیلہ کا پیمانہ اس قدر وسیع ہو کہ مسلمات کی بنا پر قانون اسلامی کو نہ صرف ایک جدید پیرائے میں مرتب ومنظم کرسکے بلکہ تخیل کے زور سے اصول کو ایسی وسعت دے سکے جو حال کے تمدنی تقاضوں کی تمام ممکنہ صورتوں پرحاوی ہو جہاں تک مجھے معلوم ہے ،اسلامی دنیامیں اب تک کوئی ایسا عالی دماغ مقنن پیدا نہیں ہوا اور اگر اس کام کی اہمیت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ایک سے زیادہ دماغوں کا ہے اور اس کی تکمیل کے لئے کم ازکم ایک صدی کی ضرورت ہے۔ “
0 comments so far,add yours