جیسے ہم بزم ہیں پھر یارِ طرح دار سے ہمرات ملتے رہے اپنے در و دیوار سے ہمسر خوشی میں یونہی دل شاد و غزل خواں گزرےکوئے قاتل سے کبھی کوچۂ دلدار سے ہمکبھی منزل، کبھی رستے نے ہمیں ساتھ دیاہر قدم الجھے رہے قافلہ سالار سے ہمہم سے بے بہرہ ہوئی اب جرسِ گُل کی صداورنہ واقف تھے ہر اِک رنگ کی جھنکار سے ہمفیض جب چاہا جو کچھ چاہا سدا مانگ لیاہاتھ پھیلا کے دلِ بے زر و دینار سے ہم(فیض احمد فیض)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments so far,add yours