تیرے تِیرِ نظر آئے تو یوں آئے میرے دِل میں
سِمٹ کر جیسے موجیں آتی ہیں آغوشِ ساحل میں
نہ نِکلا پِھر جو اُن کا ناوُکِ ناز آ گیا دِل میں
تھکا ماندہ مُسافر آ کے ٹھہرا عیشِ منزل میں
ہزار آبادیوں سے پِھر یہ ویرانہ غنیمت ہے
یہیں کا ہو رہا اَرمان جو آیا میرے دِل میں
وہ پَردے ہی میں رہتے اور مجھے دیدار ہو جاتا
اگر ہوتے میری آنکھوں کے پردے اُن کی محمل میں
وہ خنجر اور میرے دُشمن کا سر یہ ہو نہیں سکتا
چلے تو میری گردن پر رہے تو دَستِ قاتل میں
تعلق اِس کو کہتے ہیں کہ برسوں ذِبح ہونے پر
مہک پھولوں کی آتی ہی رہی خونِ عنادل میں
تمہارے عارضِ تاباں کے آگے کوئی کیا ٹھہرے
ہوئی پانی پِگھل کر شمع جب آئی ہے محفل میں
عجب نیندیں ہیں بیدم خفتگانِ خاک کی نیندیں
کہ کروٹ بھی نہیں لیتے یہ اپنی عیشِ منزل میں
حضرت بیدم شاہ وارثی
سِمٹ کر جیسے موجیں آتی ہیں آغوشِ ساحل میں
نہ نِکلا پِھر جو اُن کا ناوُکِ ناز آ گیا دِل میں
تھکا ماندہ مُسافر آ کے ٹھہرا عیشِ منزل میں
ہزار آبادیوں سے پِھر یہ ویرانہ غنیمت ہے
یہیں کا ہو رہا اَرمان جو آیا میرے دِل میں
وہ پَردے ہی میں رہتے اور مجھے دیدار ہو جاتا
اگر ہوتے میری آنکھوں کے پردے اُن کی محمل میں
وہ خنجر اور میرے دُشمن کا سر یہ ہو نہیں سکتا
چلے تو میری گردن پر رہے تو دَستِ قاتل میں
تعلق اِس کو کہتے ہیں کہ برسوں ذِبح ہونے پر
مہک پھولوں کی آتی ہی رہی خونِ عنادل میں
تمہارے عارضِ تاباں کے آگے کوئی کیا ٹھہرے
ہوئی پانی پِگھل کر شمع جب آئی ہے محفل میں
عجب نیندیں ہیں بیدم خفتگانِ خاک کی نیندیں
کہ کروٹ بھی نہیں لیتے یہ اپنی عیشِ منزل میں
حضرت بیدم شاہ وارثی
0 comments so far,add yours