۔جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں ،زمینوں میں،،،بانگِ درا،،،یوسف سلیم چشتی کی تشریح آخری قسط
نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
حضورصلے اللہ علیہ وسلم! مدتوں سے حکما اور فلاسفہ آپ کےمرتبہ اور مقام میں بحث و تمحیص کر رہے ہیں۔لیکن آپ کے جمال سے ناواقف اور نا آشنا ہیں جس کی بنا پر انہیں بڑے مغالطے لا حق ہو گئے ہیں۔۔۔اس لیے حضورؐ! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کسی دن ان منکریں شانِ رسالت کو اپنا جمال جہاں آرا کی ایک جھلک دیکھا دیں۔
خموش اے دل! بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا!
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
علامہ اب معسوس کر رہے ہیں کہ براو راست خطاب میں کہیں گستاخی یا بے ادبی کا پہلو نہ پیدا ہو جائے اور حضورؐ کے سامنے تو مسلمان اونچی آواز سے بھی بات نہیں کر سکتا۔۔۔مومن کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ حضورؐ کے سامنے ادب ملحوظ رکھے۔۔۔سر تسلیم کرنا تو محبت کی الف بے تے ہے
برا سمجھوں انہیں؟ مجھ سے ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی ہوں اقبال اپنے نکتہ چینوں میں
اقبال نے اس بات کی کی صراحت کر دی ہے کہ جو لوگ میرے مسلک عاشقی(عشق رسولؐ) کے خلاف ہیں اور مجھ پر نکتہ چینی کرتے ہیں میں ان کو برا نہیں سمجھتا کیونکہ مسلک عاشقی میں کسی کو بُرا کہنا سب سے بڑا جرم ہے ۔۔۔میں تو خود اپنے اوپر نکتہ چینی کرتا رہتا ہوں دوسروں کو کیسے بُرا سمجھ سکتا ہوں
 

2 comments so far,Add yours

  1. مہربانی کر کے اس غزل کی مکمل تشریح کا حوالہ فراہم کیا جائے ، بہت شکریہ

    ReplyDelete
    Replies
    1. سکنڈئر کورس میں یہ غزل شامل ہیں ۔تشریح کے حوالے سے آسان، اور مشکل بھی ہے ۔

      Delete