تَنِش اَز سایۂِ بالِ تَذَروے لَرزہ می گِیرَد
چُو شاہین زادۂِ اَندر قَفس با دانہ می سازَد
اس کا بدن چکور کے پَر کے سایہ سے {بھی} کانپ اٹھتا ہے
جب کوئی شاہین بچہ پنجرے کے اندر دانہ پر راضی ہوجاتا ہے{قید کی ذلت گوارہ
کرلیتا ہے}
{جب مردِ مومن غیراللہ کی غلامی اختیار کرلیتا ہے تو اس میں اسقدر بزدلی
پیدا
ہوجاتی ہےکہ وہ کافر کو دیکھ کر لرزہ براندام ہوجاتا ہے یعنی جہاد
نہیں کرسکتا}
بُگو اقبال رَا اے باغباں رَخت اَز چَمن بَندَد
کہ ایں جادُو نَوا ما رَا زَ گُل بیگانہ می سازَد
اے باغباں اقبال سے کہہ دے {کہ} وہ چمن سے نکل جائے
کیونکہ یہ جادو نوا ہمیں پھول سے بیگانہ کررہا ہے
{اقبال کہنا چاہتا ہے اگر قوم میرے کلام کو سمجھ لے تو دنیا اور اس کے فانی لذتوں
سے بیگانہ ہوکر اپنے مقصدِ حقیقی کے حصول کی طرف راغب ہوسکتی ہے
"گُل" سے دنیا کی وہ عارضی اور فانی لذتیں مراد ہیں جن کی طلسم میں پھنس کر
انسان اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہوجاتا ہے} شعر کا لطف اسی لفظ کے مفہوم
میں پوشیدہ ہے
پیامِ مشرق
تَنِش اَز سایۂِ بالِ تَذَروے لَرزہ می گِیرَد
چُو شاہین زادۂِ اَندر قَفس با دانہ می سازَد
اس کا بدن چکور کے پَر کے سایہ سے {بھی} کانپ اٹھتا ہے
جب کوئی شاہین بچہ پنجرے کے اندر دانہ پر راضی ہوجاتا ہے{قید کی ذلت گوارہ
کرلیتا ہے}
{جب مردِ مومن غیراللہ کی غلامی اختیار کرلیتا ہے تو اس میں اسقدر بزدلی پیدا
ہوجاتی ہےکہ وہ کافر کو دیکھ کر لرزہ براندام ہوجاتا ہے یعنی جہاد نہیں کرسکتا}
بُگو اقبال رَا اے باغباں رَخت اَز چَمن بَندَد
کہ ایں جادُو نَوا ما رَا زَ گُل بیگانہ می سازَد
اے باغباں اقبال سے کہہ دے {کہ} وہ چمن سے نکل جائے
کیونکہ یہ جادو نوا ہمیں پھول سے بیگانہ کررہا ہے
{اقبال کہنا چاہتا ہے اگر قوم میرے کلام کو سمجھ لے تو دنیا اور اس کے فانی لذتوں
سے بیگانہ ہوکر اپنے مقصدِ حقیقی کے حصول کی طرف راغب ہوسکتی ہے
"گُل" سے دنیا کی وہ عارضی اور فانی لذتیں مراد ہیں جن کی طلسم میں پھنس کر
انسان اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہوجاتا ہے} شعر کا لطف اسی لفظ کے مفہوم
میں پوشیدہ ہے
پیامِ مشرق
چُو شاہین زادۂِ اَندر قَفس با دانہ می سازَد
اس کا بدن چکور کے پَر کے سایہ سے {بھی} کانپ اٹھتا ہے
جب کوئی شاہین بچہ پنجرے کے اندر دانہ پر راضی ہوجاتا ہے{قید کی ذلت گوارہ
کرلیتا ہے}
{جب مردِ مومن غیراللہ کی غلامی اختیار کرلیتا ہے تو اس میں اسقدر بزدلی پیدا
ہوجاتی ہےکہ وہ کافر کو دیکھ کر لرزہ براندام ہوجاتا ہے یعنی جہاد نہیں کرسکتا}
بُگو اقبال رَا اے باغباں رَخت اَز چَمن بَندَد
کہ ایں جادُو نَوا ما رَا زَ گُل بیگانہ می سازَد
اے باغباں اقبال سے کہہ دے {کہ} وہ چمن سے نکل جائے
کیونکہ یہ جادو نوا ہمیں پھول سے بیگانہ کررہا ہے
{اقبال کہنا چاہتا ہے اگر قوم میرے کلام کو سمجھ لے تو دنیا اور اس کے فانی لذتوں
سے بیگانہ ہوکر اپنے مقصدِ حقیقی کے حصول کی طرف راغب ہوسکتی ہے
"گُل" سے دنیا کی وہ عارضی اور فانی لذتیں مراد ہیں جن کی طلسم میں پھنس کر
انسان اپنے مقصدِ حیات سے غافل ہوجاتا ہے} شعر کا لطف اسی لفظ کے مفہوم
میں پوشیدہ ہے
پیامِ مشرق
0 comments so far,add yours