ایہہ دُنیا رَن حیض پلیتی ہرگز پاک نہ تِھیوے ہُو
جِیں فقر گھر دُنیا ہووے لعنت تُس دے جیوے ہُو
حُب دُنیا دی رب تھیں موڑے ویلے فکر کچیوے ہُو
سِہ طلاق دُنیا نوں باہو جے کر سِچ پُچھیوے ہُو
ترجمہ و تشریح
حضرت سلطان باہو کا شعور شرعی احکام میں گہرا رسوخ رکھتا تھا،اِس لئے اِن کا تخیل فِقہ کے ضابطوں میں سے بھی تشبیہوں اور استعاروں کو چُن لیتا ہے۔۔۔
پلیدی اور کراہت کے لئے اُنہوں نے زنِ حائضہ کی تشبیہہ چُنی۔فقہی لِحاظ سے ایسی عورت کا جِسم ناپاک ہوتا یے فقیروں کے نزدیک دُنیا بھی ایسی ہی ہے کہ وہ اسے ناپاک سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک وہ پلید اور مکروہ ہی رہتی ہے۔
سلطان العارفین فقر میں حُبِ دنیا کو مرد راہ کے لئے ایک خطرہ عظیم سمجھتے ہیں لہٰذا اگر کسی کا ایک قدم فقیری میں ہے اور دوسرا دنیا میں تو پھر وہ خدا سے دور جا پڑا۔۔بے شک وہ ٹھیک ٹھاک جی رہا ہے مگر اس کے جینے پر لعنت ہے کیونکہ اُس نے پاک ور پلید کا باہم ملانا چاہا ہے چنانچہ پاک بھی پلید ہو گیا۔۔دو متضاد اشیاء کی محبت ایک دل میں جگہ نہیں پا سکتی۔یعنی اللہ کی محبت اور حُبِ دُنیا دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ایسے میں اگر کوئی فقر اِختیار کرتا ہے تو پِھر تمام زندگی کا ماحصل اللہ سے دوری ہو گا۔۔۔
0 comments so far,add yours